بیروت (رپورٹنگ آن لائن)لبنانی صدر جوزف عون نے کہا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے جنوبی لبنان میں بفر زون قائم کرنے کے بارے میں بیروت کو کوئی باضابطہ اطلاع نہیں ملی۔
انہوں نے واضح کیا کہ لبنان امریکی ایلچی ٹامس براک اور سابق ایلچی مورگن اورتاگوس کے ذریعے اسرائیلی ردعمل کا منتظر ہے، جو تجاویز پر مشتمل ایک تحریری دستاویز لے کر آئیں گے۔میڈیارپورٹس کے مطابق صدر عون نے امریکی کانگریس کے رکن ڈیرن لحود سے ملاقات کے دوران زور دیا کہ جنوبی لبنان میں اقوام متحدہ کی امن فورس یونیفیل کی موجودگی میں توسیع ناگزیر ہے تاکہ سلامتی کونسل کی قرارداد 1701 پر مکمل عمل درآمد ہوسکے۔
اس قرارداد میں اسرائیل کے زیر قبضہ لبنانی اراضی سے انخلا، قیدیوں کی رہائی اور لبنانی فوج کی بین الاقوامی سرحد تک تعیناتی شامل ہے۔انہوں نے کہا کہ لبنان اقوام متحدہ کی فورس کے قیام کو وقت سے پہلے ختم کرنے کے بجائے اس کی موجودگی برقرار رکھنے کا خواہاں ہے۔چند روز قبل صدر عون نے یونیفیل کے کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل دیوداتو ابگنارا سے ملاقات میں بھی یہی مقف دہرایا اور کہا تھا کہ لبنانی فوج، یونفیل اور جنوبی قصبوں کے عوام کے درمیان تعاون انتہائی ضروری ہے۔









