لاہور (رپورٹنگ آن لائن) لاہور ہائیکورٹ نے پنجاب حکومت کو پولیس کمپلینٹس اتھارٹی بنانے کی ہدایت کردی۔فیصلہ میں کہا گیا ہے کہ اتھارٹی جتنی جلدممکن ہوسکے قائم کی جائے لیکن 6ماہ کی مدت سے تجاوزنہ کرے، پولیس آڈرکو بنے21 سال ہوگئے لیکن کمپلینٹس اتھارٹی بنانے کے لیے کوشش نہیں کی گئی۔جسٹس امجد رفیق نے پولیس کے اے ایس آئی حفیظ اللہ کی درخواست پر فیصلہ جاری کیا، ٹریکٹر خوردبرد کیس کی غلط تفتیش پر پولیس اہلکارکے خلاف مقدمہ درج کیا گیا۔
محکمانہ انکوائری میں محکمے نے اہلکارحفیظ اللہ کو بری کردیا،جسٹس امجدرفیق نے فیصلے میں صوبائی کمپلینٹس اتھارٹی کے قیام کو ضروری قرار دے دیا۔ڈسٹرکٹ پبلک پراسیکیوٹر کو پولیس حکام نے بتایا کہ ابھی تک ایسی اتھارٹی قائم نہیں کی گئی۔ فیصلہ میں کہا گیا کہ پولیس آرڈر 2002ء کے آرٹیکل 104 کے تحت اتھارٹی ایک چیئرپرسن اور 6 ارکان پر مشتمل ہونی چاہیے، چیئرپرسن کی تقرری گورنراورارکان کی تقرری صوبائی حکومت کرے گی۔
عدالت نے کہا کہ قانون کے تحت اگر کسی اہلکار کی شکایت جسٹس آف پیس کو موصول ہو تو وہ ڈی پی او کو بھیجیگا، ڈی پی اواسے پولیس کمپلینٹس اتھارٹی کو بھیجے گا،جسٹس آف پیس بھی شکایت گزار کو پولیس کمپلینٹس اتھارٹی کے روبرودرخواست دینے کا کہہ سکتا،عدالت نے فیصلے کی کاپی چیف سیکرٹری کو عملدرآمد کے لیے بھجوانے کی ہدایت کر دی۔








