لاہور ہائی کورٹ 76

لاہور ہائیکورٹ کا فرانزک سائنس اتھارٹی کی رپورٹس کی تاخیر پر اظہار ناراضگی، ہوم سیکرٹری طلب

لاہور (رپورٹنگ آن لائن) لاہور ہائیکورٹ نے فرانزک سائنس اتھارٹی کی رپورٹس کی تاخیر پر اظہار ناراضگی کرتے ہوئے ہوم سیکرٹری پنجاب نور الامین مینگل کو 26مئی کو طلب کرلیا ،عدالت نے ریمارکس دئیے کہ فرانزک سائنس اتھارٹی کی رپورٹس میں تاخیر کے باعث مقدمات کے فیصلے بروقت نہیں ہورہے ۔

جسٹس سیدشہبازعلی رضوی نے منشیات کے ملزم سید اعجاز حیدر کی درخواست ضمانت پرسماعت کی، ڈی جی فرانزنک سائنس اتھارٹی ڈاکٹرامجد، ایس پی ماڈل ٹائون سدرہ خان سمیت دیگر افسران پیش ہوئے جبکہ پراسیکیویشن کی جانب سے ڈپٹی پراسیکیوٹرجنرل محمد اسد تحریم بیگ پیش ہوئے۔ جسٹس سید شہبازعلی رضوی نے ڈی جی فرانزک سائنس اتھارٹی سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ کی رپورٹس بروقت نہیں آرہیں.

ڈی جی پی ایس اے نے جواب دیا کہ سال میں25ہزار سے زائد کی رپورٹس ہوتی ہیں، ایک اینالسٹ نے تقریباً دو ہزاررپورٹس تیارکرنا ہوتی ہیں۔ ہوم سیکرٹری کو اینالسٹ کی تعداد پوری کرنے کے لئے مراسلہ لکھا لیکن کوئی پیشرفت نہیں ہوئی۔جسٹس سید شہبازعلی رضوی نے ریمارکس دیئے کہ دوماہ تک رزلٹ نہیں آئیگا توعدالتیں کس طرح فیصلہ کریں گی۔ ڈی جی فرانزک سائنس اتھارٹی نے کہا کہ ہم نے تو ہوم ڈیپارٹمنٹ کو درخواست کی ہوئی ہے، وہی ابھی تک کچھ نہیں کررہے۔

عدالت نے ایس پی سدرہ خان سے رپورٹس میں تاخیر کو دور کرنے کے لئے اقدامات نہ کرنے پر اظہار ناراضگی کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ ایسا میکانزم اختیار کریں کہ اگر تیس روزمیں رپورٹ موصول ہو تو اس پر سسٹم اس کی نشاندہی کرے۔عدالت نے ایس پی سدرہ خان سے کہا کہ عدالتی معاملات کوسنجیدہ لیا کریں۔عدالت نے ہوم سیکرٹری کوطلب کرتے ہوئے سماعت 26مئی بروز پیرتک ملتوی کردی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں