لاہور ہائیکورٹ 38

لاہور ہائیکورٹ، ناقص پراسکیوشن اور کمزور تفتیش کے باعث ملزمان بری ہونے لگے

لاہور(رپورٹنگ آں لائن)لاہور ہائیکورٹ نے 2 کلو منشیات برآمدگی کے مقدمے میں ساڑھے 3 سال قید کی سزا کاٹنے والے مجرم کو بری کرنے کا حکم دےدیا، ٹرائل کورٹ نے 9 سال قید کی سزا کا حکم سنایا تھا۔

لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس فاروق حیدر اور جسٹس طارق ندیم پر مشتمل 2 رکنی بنچ نے مقدمے کے مجرم اشفاق کی اپیل پر 13 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا۔فیصلے کے مطابق مجرم اشفاق پر 2022 میں جڑانوالہ پولیس نے دو کلو منشیات برآمدگی کا مقدمہ درج کیا تھا، عدالت نے قرار دیا کہ پراسیکیوشن کیس پراپرٹی اور اس سے حاصل شدہ سیمپلز کی محفوظ چین آف کسٹڈی اور فرانزک کیلئے بروقت ترسیل ثابت کرنے میں ناکام رہی۔فیصلے میں مزید کہا گیا ہے کہ اگر کسی بھی گواہ کے بیان میں معمولی سا تضاد ہو تو پورا بیان مشکوک ہو جاتا ہے، جبکہ موجودہ کیس میں ملزم کی گرفتاری سے لے کر کیس پراپرٹی تک گواہوں کے بیانات میں متعدد تضادات پائے گئے۔

عدالت نے قرار دیا کہ نارکوٹکس مقدمات میں الزام ثابت کرنے کیلئے اعلی معیار کے شواہد ناگزیر ہوتے ہیں، تاہم موجودہ کیس میں ایسے شواہد موجود نہیں۔لاہور ہائیکورٹ نے مجرم کی 9 سال قید کی سزا کالعدم قرار دیتے ہوئے اپیل منظور کر کے فوری رہائی کا حکم دے دیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں