248

قمر الحسن کا جادوچل گیا۔ڈی جی ایکسائز، سپریم کورٹ کے احکامات کی توہین پر آمادہ ہوگئے

قمر الحسن کا جادوچل گیا۔ڈی جی ایکسائز، سپریم کورٹ کے احکامات کی توہین پر آمادہ ہوگئے۔

شہباز اکمل جندران۔۔۔

ڈائیریکٹر جنرل ایکسائز ٹیکسیشن اینڈ نارکوٹکس کنٹرول ڈیپارٹمنٹ پنجاب ڈاکٹر آصف طفیل کی طرف سے گائیڈ لائنز کے عنوان سے ایک فیصلہ جاری کیا گیا ہے

جس کے تحت قرار دیا گیا ہے کہ صوبے بھرمیں ایکسائز سٹاف سپریم کورٹ کے احکامات اور ایڈمنسٹریٹو سیکرٹری کی ہدایات کے مطابق گاڑیوں کی انسپکشن کررہا ہے۔

تاہم یہ عمل کسی قسم کی گائیڈ لائنز کے بغیر کیا جارہا ہے۔جس کے باعث 33 ہزار گاڑیوں کی انسپکشن التوا کا شکار ہے اور گاڑی مالکان کو اطلاع دینے کا کوئی مناسب انتظام نہیں ہے۔

لہذا یہ فیصلہ کیا جاتا ہے کہ آئندہ پنجاب بھر میں صرف امپورٹڈ اور نیلامی شدہ گاڑیوں کے ساتھ ساتھ ایک برس پرانے سیلز سرٹیفکیٹ اور دوسرے صوبوں کے حامل سیلز سرٹیفکیٹ رکھنے والی گاڑیوں کی ہی انسپکشن کی جائیگی۔ اس کے علاوہبکسی گاڑی کی فزیکل انسپکشن نہیں کی جائیگی اور اگر کوئی ایم آر اے اس کے علاوہ کسی گاڑی کی انسپکشن کرنا چاہتا یے تو وہ تحریری وجوہات بیان کریگا۔

ڈائیریکٹر جنرل ایکسائز ٹیکسیشن اینڈ نارکوٹکس کنٹرول ڈیپارٹمنٹ پنجاب کے احکامات پر ڈپٹی ڈائریکٹر ہیڈ کوآرٹر کی طرف سے جاری شدہ 7 اکتوبر 2022 کے یہ میٹنگ منٹس سپریم کورٹ آف پاکستان کے احکامات کی واضح خلاف ورزی ہیں۔

عدالت عظمی قرار دے چکی ہے کہ تمام گاڑیوں کی نیو رجسٹریشن اور پوسٹ ٹرانزکشن یا ملکیت کی تبدیلی کے وقت فزیکل انسپکشن لازمی ہے۔ایڈوکیٹ شہبازاکمل جندران نے سپریم کورٹ آف پاکستان کے احکامات پر عمل درآمد کے لئے لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کیا

تو صوبائی سیکرٹری ایکسائز ٹیکسیشن اینڈ نارکوٹکس کنٹرول ڈیپارٹمنٹ پنجاب وقاص علی محمود نے 10 مئی 2022 کو ڈیپارٹمنٹ کے تمام ڈائیریکٹروں اور موٹر رجسٹرنگ اتھارٹیز کو سرکلر جاری کردیا کہ سپریم کورٹ کے احکامات پر من و عن عمل درآمد کیا جائے۔ جس پر صوبے بھر کی موٹر رجسٹرنگ اتھارٹیز نے نیو رجسٹریشن اور ٹرانسفر آف اونرشپ کے وقت ہر گاڑی کی فزیکل انسپکشن شروع کردی۔

تاہم لاہور میں ریجن سی کے اس وقت کے ڈائیریکٹر قمر الحسن سجاد سپریم کورٹ کے ان احکامات پر عمل درآمد کرنے پررضامند نہ تھے۔ جس کا اظہار انہوں نے لاہور ہائیکورٹ کے مسٹر جسٹس علی باقر نجفی کے روبرو بھی کیا جس پر معزز بنچ نے قمرالحسن سجاد کی سرزنش کی اور ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل کی درخواست پر سیکرٹری ایکسائز کو ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا۔

جہاں سیکرٹری ایکسائز دو پیشیوں پر عدالت عالیہ کو مطمئن نہ کرپائے اور انہوں نے عدالتی حکم کے مطابق تمام گاڑیوں کی نیو رجسٹریشن اور ٹرانسفر آف اونرشپ کے وقت فزیکل انسپکشن کا حکم دیتے ہوئے سرکلر جاری کردیا۔

Supreme court سپریم کورٹ کے احکامات کی خلاف ورزی

 

البتہ ذرائع کا کہنا ہے کہ قمرالحسن سجاد ریجن سی سے تبدیل ہونے کے بعد نئے آنے والے ڈائریکٹر جنرل ایکسائز ٹیکسیشن اینڈ نارکوٹکس کنٹرول ڈیپارٹمنٹ پنجاب ڈاکٹر آصف طفیل کو مسلسل فزیکل انسپکشن کے خلاف اکساتے رہے اور بلآخر وہ ڈی جی ایکسائز کو سپریم کورٹ آف پاکستان کے واضح احکامات کی خلاف ورزی پر آمادہ کرنے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔

ڈی جی ایکسائز کے اس فیصلے نے صوبے بھر میں موٹر رجسٹرنگ اتھارٹیز کو بھی کنفیوژڈ کردیا ہے کہ وی ڈائیریکٹر جنرل کا حکم مانیں یا سپریم کورٹ کا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں