لاہور (رپورٹنگ آن لائن) لاہور ہائیکورٹ نے قتل کے الزام میں سزائے موت پانے والے مجرم الفت کی سزا 4سال بعد کالعدم قرار دے کر بری کردیا۔
جسٹس فاروق حیدر نے اپیل پر فیصلہ سناتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ پراسیکیوشن کے کیس میں بہت سے نقائص ہیں، پراسیکیوشن وقوعہ کو تاخیر سے رپورٹ کرنے پر عدالت کو مطمئن نہیں کرسکی۔عدالت نے ریمارکس دیئے کہ وقوعہ دو گھنٹے کی تاخیر سے رپورٹ ہوا .
جبکہ موٹرسائیکل اور ہسپتال لے جانے والے افراد کے کپڑوں کو ریکارڈ کا حصہ نہیں بنایا گیا۔ 9گھنٹے کی تاخیر سے پوسٹ مارٹم کیا گیا۔مجرم کے خلاف تھانہ صدر فاروق آباد میں قتل کی دفعات کے تحت مقدمہ درج تھا، ٹرائل کورٹ نے 2022ء میں مجرم کو سزائے موت کی سزا سنائی تھی۔









