لاہورہائیکورٹ 19

قانون کے مطابق زیادتی کی کوشش کی سزا بھی عمر قید ہے’لاہور ہائیکورٹ

لاہور ( رپورٹنگ آن لائن) لاہور ہائیکورٹ نے زیادتی کیس کے ملزم کی عبوری درخواست ضمانت میں تفتیشی افسر سے آئندہ سماعت پر ویڈیو کی فرانزک رپورٹ طلب کرلی۔

جسٹس طارق محمود باجوہ نے زیادتی کے مقدمے میں ملوث ملزم کی عبوری ضمانت میں توسیع کر دی اور تفتیشی افسر کو ہدایت کی کہ ویڈیو کی فرانزک رپورٹ آئندہ سماعت پر عدالت میں پیش کی جائے۔ عدالت نے واضح کیا کہ رپورٹ 7اکتوبر تک لازمی طور پر جمع کروائی جائے۔تفتیشی افسر نے عدالت میں رپورٹ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ ملزم کی عمر 14سال 9ماہ ہے اور اس کے خلاف تھانہ صدر گجرات میں زیادتی کا مقدمہ درج ہے۔

افسر نے مزید بتایا کہ بچے سے زیادتی کی ویڈیو بھی موجود ہے۔دوسری جانب، ملزم کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ ویڈیو متاثرہ بچے کے والد نے وائرل کی ہے، تاہم اس ویڈیو میں زیادتی ثابت نہیں ہوتی۔ عدالت نے اس نکتے پر سوال اٹھایا کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ کوئی والد اپنے ہی بچے کی نامناسب ویڈیو کو وائرل کرے؟۔سماعت کے دوران جسٹس طارق محمود باجوہ نے ریمارکس دیے کہ قانون کے مطابق زیادتی کی کوشش کی سزا بھی عمر قید ہے۔

وکیلِ ملزم نے موقف اختیار کیا کہ عبدالوہاب خود بھی کمسن ہے، اس کی تاریخِ پیدائش 15ستمبر 2010ء ہے اور اسے جھوٹے مقدمے میں ملوث کیا گیا ہے۔ انہوں نے عدالت سے استدعا کی کہ ملزم کی ضمانت کنفرم کی جائے۔عدالت نے کیس کی مزید سماعت 7 اکتوبر تک ملتوی کرتے ہوئے تفتیشی افسر کو ہدایت دی کہ فرانزک رپورٹ لازمی طور پر پیش کی جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں