محمود عباس 22

فلسطینی صدر کی فلسطین سے متعلق سعودی عرب کے موقف کی ستائش

غزہ ( رپورٹنگ آن لائن)فلسطینی صدر محمود عباس نے سعودی عرب کے اس موقف کو سراہا ہے جو فلسطینی حقوق کی حمایت پر مبنی ہے اور اس میں غزہ میں جنگ کے خاتمے، الحاق روکنے اور اسرائیل کی توسیع پسندانہ پالیسیوں کے ذریعے فلسطینیوں کو بے دخل کرنے کی کوششوں کو روکنے پر زور دیا گیا ہے۔

عباس نے سعودی وزیرِ خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان کے اس بیان کی بھی تعریف کی جس میں سعودی عرب نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جنگ بندی کی کوششوں کا خیرمقدم کیا اور مغربی کنارے کو اسرائیل میں ضم کرنے کی مخالفت کی تھی۔عباس کا کہنا تھا کہ یہ بیان فلسطینی موقف اور ان تمام عالمی قوتوں کے موقف سے ہم آہنگ ہے جو خطے اور دنیا میں جنگ کے خاتمے اور امن کے قیام کی کوشش کر رہی ہیں۔

سعودی عرب نے اس موقع پر امریکا کے ساتھ تعاون پر آمادگی ظاہر کی تاکہ غزہ میں جنگ بندی کے لیے جامع معاہدہ طے پا سکے، اسرائیلی افواج کا مکمل انخلا عمل میں لایا جا سکے اور انسانی امداد بغیر کسی رکاوٹ کے پہنچائی جا سکے۔ یہ سب اقدامات دو ریاستی حل کی بنیاد پر منصفانہ اور جامع امن کے قیام کی کوششوں کو مضبوط بنانے اور 1967 کی سرحدوں کے مطابق مشرقی بیت المقدس کو دار الحکومت بنا کر فلسطینی ریاست کے قیام کو یقینی بنانے کے لیے ہیں۔

یہ بات سعودی کابینہ کے اجلاس کے دوران بتائی گئی جس کی صدارت وزیرِ اعظم اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے کی۔ اجلاس میں امریکا کی جانب سے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا جامع منصوبہ پیش کیے جانے کا خیرمقدم کیا گیا، جس کا مقصد غزہ میں جنگ کا خاتمہ، علاقے کی تعمیر نو اور انسانی امداد کے بے روک ٹوک داخلے کو ممکن بنانا ہے۔ اس کے ساتھ ہی صدر ٹرمپ کے اس اعلان کو بھی سراہا گیا کہ وہ مغربی کنارے کو اسرائیل میں ضم کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔

کابینہ نے اس موقع پر سعودی عرب کی سفارتی کوششوں کا بھی ذکر کیا جن کے نتیجے میں فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے والے ممالک کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے اور عالمی برادری میں فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت کے لیے حمایت میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں