جعفر بن یار
پاکستان ہائی ٹیک ہائبرڈ سیڈ ایسوسی ایشن کے چیئرمین شہزاد علی ملک نے کہا ہے کہ سی پیک کے تحت ’فائیٹو سینیٹری پروٹوکول‘ کے ایم او یو پر دستخط سے پاکستان سے چین کو خشک مرچوں کی برآمد میں کئی گنا اضافہ ہو گا۔
جمعرات کو یہاں پیر نور حسین شاہ کی قیادت میں جنوبی پنجاب اور اندرون سندھ کے ترقی پسند کاشتکاروں کے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہائبرڈ بیج کے ذریعے سرخ مرچ کی پیداوار میں اضافہ سے ملکی کھپت اور ممکنہ برآمدات کیلئے اس کی فراہمی کو یقینی بنایا جا سکتا ہے۔
زیادہ پیداوار کسانوں کی آمدنی اور دیہی ترقی میں اہم کردار ادا کرتی ہے اور اس سے زرعی شعبے کو مضبوط بنایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہائبرڈ مرچ اپنے معیار، سائز اور ذائقے کے لیے مشہور ہے اور ملکی اور بین الاقوامی منڈیوں خصوصاً چین میں اس کی بہت زیادہ مانگ ہے۔ انہوں نے کہا کہ فائیٹو سینیٹری سے مراد پودوں کی صحت کے تحفظ اور کیڑوں اور بیماریوں کے پھیلاو ¿ کو روکنے کے لیے اٹھائے گئے اقدامات ہیں۔
انہوں نے کہا کہ زیادہ پیداوار اور کیڑوں اور بیماریوں کے خلاف مزاحمت کی وجہ سے پاکستان میں ہائبرڈ سرخ مرچ کی کاشت مقبول ہو رہی ہے۔
زیادہ مانگ کی وجہ سے اس کی کاشت کا دائرہ وسیع ہو رہا ہے اور کسانوں نے ہائبرڈ اقسام کے فوائد کو تسلیم کر لیا ہے۔ شہزاد علی ملک ستارہ امتیاز، جو گارڈ ایگریکلچرل ریسرچ اینڈ سروسز کے سی ای او بھی ہیں، نے کہا کہ پاکستان میں ہائبرڈ سرخ مرچ کی کاشت زرعی پیداوار اور کسانوں کی آمدنی میں اضافے اور مارکیٹ کی طلب کو پورا کرنے کے لیے انتہائی ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہائبرڈ بیج پودوں اور پیداوار کے سائز، شکل اور رنگ میں یکسانیت کو یقینی بناتے ہیں جو جو بہتر کٹائی اور اچھی مارکیٹنگ کے لیے ضروری ہے۔








