انقرہ ( رپورٹنگ آن لائن)ترکیہ کے وزیر خارجہ ہاکان فیدان نے کہا ہے کہ میامی میں غزہ کے حوالے سے ہونے والا اجلاس شرم الشیخ کے بعد سب سے اہم اجلاس تھا، جس جنگ بندی کے پہلے مرحلے کے معاہدے میں موجود مسائل پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
فیدان نے واضح کیا کہ جنگ بندی کی خلاف ورزیاں امن کے منصوبے کو خطرے میں ڈال رہی ہیں اور دوسرے مرحلے میں منتقلی کے لیے سنگین رکاوٹ بن رہی ہیں۔ اسرائیل کی مسلسل خلاف ورزیاں اس راستے کو مزید پیچیدہ کر رہی ہیں۔انہوں نے بتایا کہ اجلاس میں فریقین نے ان خدشات پر اتفاق کیا اور خلاف ورزیوں کو روکنے اور ان کے دہرائے جانے سے بچنے کے طریقوں پر مشاورت کی۔
دوسرے مرحلے کے حوالے سے فیدان نے زور دیا کہ چار ثالث ممالک امریکہ، ترکیہ، مصر اور قطر کے درمیان مربوط تعاون جاری رہنا چاہیے۔انہوں نے بتایا کہ اجلاس میں غزہ کی تعمیر نو کے لیے ابتدائی اقدامات پر بات کی گئی اور انہیں ابتدائی طور پر زیر غور لایا گیا۔
فیدان نے کہا کہ ترکیہ کا غزہ سے متعلق موقف تین بنیادی اصولوں پر مبنی ہے: اول، غزہ کی انتظامیہ فلسطینی عوام کے ہاتھ میں ہو۔ دوم، غزہ کی زمین کو تقسیم نہ کیا جائے،سوم تمام اقدامات غزہ کے عوام کے مفاد میں ہوں۔فیدان کے یہ بیانات میامی میں غزہ کے خصوصی اجلاس کے بعد سامنے آئے۔









