اروندھتی رائے 18

غزہ سے یکجہتی، اروندھتی رائے کا برلن فلم فیسٹیول سے دستبرداری کا اعلان

نئی دہلی (رپورٹنگ آن لائن) بھارتی مصنفہ اروندھتی رائے نے برلن انٹرنیشنل فلم فیسٹیول سے دستبردار ہونے کا اعلان کر دیا ہے، جس کی وجہ انہوں نے جیوری ارکان کی جانب سے غزہ کے بارے میں دیے گئے ناقابل معافی بیانات بتائی ہے۔

بھارت کے اخبار دی وائر میں لکھتے ہوئے اروندھتی رائے نے کہا کہ فیسٹیول کی جیوری کے ارکان، جن میں جیوری کے چیئرمین اور معروف ہدایتکار وِم وینڈرز بھی شامل ہیں، کا یہ کہنا کہ ’فن کو سیاسی نہیں ہونا چاہئے‘ انتہائی حیران کن ہے۔

بھارتی دانشور مصنفہ نے لکھا کہ یہ انسانیت کے خلاف جرم پر گفتگو کو بند کرنے کا ایک طریقہ ہے، جبکہ یہ جرم ہماری آنکھوں کے سامنے جاری ہے، میں صدمے اور نفرت کا شکار ہوں، فنکاروں، مصنفوں اور فلم سازوں کو جنگ روکنے کے لیے اپنی پوری طاقت استعمال کرنی چاہئے۔

اروندھتی نے واضح الفاظ میں کہا کہ غزہ میں جو کچھ ہوا اور جو جاری ہے، وہ فلسطینی عوام کی نسل کشی ہے جو اسرائیلی ریاست کر رہی ہے، یہ جنگ امریکہ اور جرمنی سمیت یورپ کے کئی ممالک کی حمایت اور مالی مدد سے جاری ہے، جس سے یہ ممالک بھی اس جرم میں شریک بنتے ہیں۔

خیال رہے کہ برلن فلم فیسٹیول کے افتتاحی پینل کے دوران ایک صحافی نے جیوری ارکان سے جرمن حکومت کی جانب سے غزہ میں نسل کشی کی حمایت اور انسانی حقوق کے منتخب اطلاق پر ان کی رائے پوچھی تھی جس پر جیوری چیئرمین وِم وینڈرز نے جواب دیا کہ فلم سازوں کو سیاست سے دور رہنا چاہئے، اگر ہم مکمل طور پر سیاسی فلمیں بنائیں تو ہم سیاست کے میدان میں داخل ہو جائیں گے، جبکہ ہم سیاست کے مخالف توازن ہیں، ہمیں عوام کا کام کرنا چاہئے، سیاستدانوں کا نہیں۔

جیوری کی ایک اور رکن، پولینڈ کی فلم پروڈیوسر ایوا پُشچِنِسکا نے کہا کہ ایسا سوال پوچھنا کچھ حد تک غیر منصفانہ ہے، کیونکہ فلم ساز اس بات کے ذمہ دار نہیں ہو سکتے کہ حکومتیں اسرائیل یا فلسطین کی حمایت کریں، دنیا میں کئی دوسری جنگیں بھی ہیں جہاں نسل کشی ہو رہی ہے مگر ہم ان پر بات نہیں کرتے۔

اروندھتی رائے اس فیسٹیول میں شرکت کرنے والی تھیں، جو 12 سے 22 فروری تک جاری رہتا ہے، کیونکہ ان کی 1989 کی فلم ’’اِن وچ اینی گیوز اٹ دوز وُنز‘‘ کو کلاسکس سیکشن میں نمائش کے لیے منتخب کیا گیا تھا۔

واضح رہے کہ جرمنی، جو امریکہ کے بعد اسرائیل کو ہتھیار فراہم کرنے والے بڑے ممالک میں شامل ہے، نے فلسطینیوں سے اظہارِ یکجہتی کرنے والوں کے خلاف سخت اقدامات متعارف کروائے ہیں۔

2024 میں 500 سے زائد بین الاقوامی فنکاروں، فلم سازوں، مصنفوں اور ثقافتی کارکنوں نے جرمنی کے سرکاری مالی تعاون سے چلنے والے ثقافتی اداروں کے بائیکاٹ کی اپیل کی تھی، ان کا کہنا تھا کہ یہ ادارے ایسے میکارتھی طرز کی پالیسیوں پر عمل کر رہے ہیں جو اظہارِ رائے کی آزادی، خاص طور پر فلسطین سے یکجہتی کے اظہار، کو دبانے کا سبب بن رہی ہیں۔

انہوں نے الزام لگایا کہ ثقافتی ادارے سوشل میڈیا، درخواستوں، کھلے خطوط اور عوامی بیانات کی نگرانی کر رہے ہیں تاکہ فلسطین کی حمایت کرنے والے ثقافتی کارکنوں کو الگ کیا جا سکے، کیونکہ وہ جرمنی کی اسرائیل کی غیر مشروط حمایت سے متفق نہیں ہوتے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں