سید یوسف رضا گیلانی 28

غربت کے خاتمے کے لیے ریاست کے ساتھ مخیر حضرات، سول سوسائٹی اور نجی شعبے کو کردار ادا کرنا ہوگا ،سید یوسف رضا گیلانی

ملتان(رپورٹنگ آن لائن)چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ غربت کا خاتمہ صرف ریاست کے بس کی بات نہیں، اس مقصد کے لیے مخیر حضرات، سول سوسائٹی اور نجی شعبے کو حکومت کے ساتھ شراکت داری کرنا ہوگی۔وہ پیر کو پنجاب میں پاکستان پاورٹی ایلیوی ایشن فنڈ (PPAF) کے زیر اہتمام منعقدہ تقریب ’’پی پی اے ایف کے کمیونٹی انفراسٹرکچر اور معاشی بااختیاری اقدامات‘‘سے خطاب کر رہے تھے۔

سید یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ غربت میں کمی کے لیے اجتماعی کاوشیں اور پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ ناگزیر ہیں، سول سوسائٹی اور فلاحی ادارے حکومت کے فلاحی منصوبوں میں بھرپور کردار ادا کریں۔چیئرمین سینیٹ نے پاکستان پاورٹی ایلیوی ایشن فنڈ اور اس کے 63 شراکت دار اداروں کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ پی پی اے ایف نے بلا سود قرضوں، صحت اور تعلیم کے شعبوں میں نمایاں سرمایہ کاری کے ذریعے اہم کردار ادا کیا ہے۔

انہوں نے وفاقی وزیر برائے تخفیف غربت و سماجی تحفظ سید عمران احمد شاہ کی کوششوں کو بھی خراجِ تحسین پیش کیا۔سید یوسف رضا گیلانی نے اپنے دورِ وزارتِ عظمیٰ کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے غریب اور مستحق خاندانوں کی معاونت کے لیے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کا آغاز کیا، جس کے تحت خواتین کو خاندان کی سربراہ قرار دے کر معاشی اور سماجی طور پر بااختیار بنایا گیا۔

انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں سکیورٹی آپریشنز کے دوران تقریباً 25 لاکھ بے گھر افراد کو 90 دن کے اندر بحال کرنا ایک تاریخی کامیابی تھی۔ عالمی معاشی بحران کے دوران اپنی حکومت کی زرعی پالیسیوں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ زراعت کو مضبوط بنا کر گندم، چاول، کپاس اور چینی کی ریکارڈ پیداوار اور برآمدات ممکن بنائی گئیں۔

چیئرمین سینیٹ نے اس بات پر زور دیا کہ کسانوں، خواتین اور بچوں کو معاشی طور پر بااختیار بنائے بغیر پائیدار ترقی ممکن نہیں۔ انہوں نے سندھ ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن کو بھی PPAF کا شراکت دار بنانے کی تجویز دی اور بتایا کہ یونیسف کی جانب سے سندھ حکومت کو صحت اور تعلیم کے لیے خاطر خواہ فنڈز فراہم کیے گئے ہیں۔اس موقع پر پی پی اے ایف کے چیف ایگزیکٹو آفیسر نادر گل نے بتایا کہ ادارے نے ملک بھر میں تقریباً 390 تعلیمی اور 90 صحت کے منصوبوں میں سرمایہ کاری کی ہے۔

انہوں نے 2005 کے زلزلے کے بعد 12 ہزار 200 مکانات کی تعمیر، 49 ہزار سے زائد خاندانوں کو خوراک کی فراہمی اور 2025 کے سیلاب کے بعد امدادی سرگرمیوں کا ذکر کیا۔ انہوں نے بتایا کہ تقریباً 2 ہزار بی آئی ایس پی مستفید خاندانوں کو ماہی گیری سمیت مختلف ہنرمندیوں کی تربیت دی گئی۔

ڈپٹی کوآرڈینیشن آفیسر، پنجاب سینٹر آف ایکسیلنس آن کاؤنٹرنگ وائلنٹ ایکسٹریمزم (COV-CVE) ڈاکٹر احمد خاور شہزاد نے غربت کے خاتمے اور امن کے قیام کے لیے حکومتی اقدامات پر روشنی ڈالی اور بتایا کہ ملک کی 45 فیصد سے زائد آبادی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہی ہے، جس کے لیے مشترکہ کوششوں کی ضرورت ہے۔

تقریب میں پیپلز پارٹی کے رکن قومی اسمبلی سمیع گیلانی، ڈپٹی سیکریٹری ایس ای ڈی جنوبی پنجاب خیل مظہر صدیقی، سی ای او ایجوکیشن ڈاکٹر صفدر واگھا اور مختلف شراکت دار این جی اوز کے نمائندگان نے بھی شرکت کی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں