بیرسٹر گوہر 10

عمران خان سے ملاقاتیں پیچیدگیاں ختم کریں گی، حکومت معاملات آگے بڑھائے’بیرسٹر گوہر

لاہور(رپورٹنگ آن لائن )چیئرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا ہے کہ بانی چیئرمین عمران خان کے اہل خانہ خصوصاً ان کی بہنوں اور اہلیہ کے خلاف کسی قسم کی تنقید یا بیان بازی قابل قبول نہیں، عمران خان سے ملاقاتیں پیچیدگیاں ختم کریں گی،

اس لیے حکومت معاملات کو آگے بڑھائے،عمران خان کی بہنیں تنقید نہیں بلکہ غلطیوں کی نشاندہی کرتی ہیں اور یہ ان کا حق ہے ،پارٹی قائدین کو چاہیے کہ وہ اس پر عوامی سطح پر جواب نہ دیں،عمران خان رہائی فورس کے قیام کے لیے مختلف قانونی آپشنز زیر غور ہیں اور پارٹی قیادت کے درمیان مشاورت جاری ہے تاکہ اس اقدام سے مستقبل میں عمران خان کے کیسز پر کوئی منفی اثر نہ پڑے،پارٹی کا ہر قدم آئین اور قانون کے دائرے میں ہوگا۔

ایک انٹر ویو میں بیرسٹر گوہر نے کہا کہ پی ٹی آئی ایک جمہوری جماعت ہے کوئی کنگ پارٹی نہیں اور اس میں آمریت کی کوئی گنجائش نہیں۔پارٹی میں ہر فرد کو اظہار رائے کا حق حاصل ہے تاہم اختلاف رائے کو پارٹی کے اندرونی فورمز تک محدود رکھا جانا چاہیے۔میڈیا یا عوامی سطح پر ایک دوسرے پر تنقید سے گریز ضروری ہے کیونکہ پارٹی ڈسپلن نہایت اہم ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ اگر اصلاح کی نیت سے کوئی بات کرنی ہو تو وہ اندرونی پلیٹ فارم پر کی جائے نہ کہ عوامی سطح پر اچھالا جائے۔ انہوںنے بتایا کہ عمران خان کو حال ہی میں رات گئے ہسپتال منتقل کیا گیا مگر پارٹی قیادت کو پیشگی اطلاع نہیں دی گئی۔

بقول حکومت عمومی رپورٹس فراہم کرتی رہی ہے اور ڈاکٹروں نے علاج کے شیڈول سے بھی آگاہ کیا تھا تاہم اس مخصوص منتقلی کے وقت اور مقام سے متعلق پہلے کوئی بریفنگ نہیں دی گئی۔علاج مکمل ہونے کے بعد آگاہ کیا گیا مگر شفافیت کا فقدان تشویش کا باعث ہے۔عمران خان سے ملاقاتوں کو روکنا کسی مسئلے کا حل نہیں۔اگر ملاقاتیں باقاعدگی سے ہوتیں تو موجودہ سیاسی بحران اس شدت تک نہ پہنچتا۔انہوںنے کہا کہ ملک کا سب سے بڑا بحران عمران خان کو جیل میں رکھنا ہے اور اگر ملاقاتوں کی اجازت دی جائے تو کئی پیچیدگیاں خود بخود ختم ہو سکتی ہیں۔

ملاقاتوں سے صحت اور علاج سے متعلق درست معلومات ملتی ہیں جس سے افواہوں کا خاتمہ ہوتا ہے۔بیرسٹر گوہر کے مطابق اسٹریٹ موومنٹ سے متعلق عمران خان نے وزیر اعلی خیبر پختونخوا ہ سہیل آفریدی کو ذمے داریاں سونپی ہیں اور وہ اپنی صوابدید پر اعلانات کرتے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ عمران خان رہائی فورس کے قیام کے لیے مختلف قانونی آپشنز زیر غور ہیں اور پارٹی قیادت کے درمیان مشاورت جاری ہے تاکہ اس اقدام سے مستقبل میں عمران خان کے کیسز پر کوئی منفی اثر نہ پڑے،پارٹی کا ہر قدم آئین اور قانون کے دائرے میں ہوگا۔بعض پارٹی رہنمائوں کے سخت بیانات پر ردعمل دیتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ وہ نہیں سمجھتے کہ ایسے بیانات مذاکرات میں رکاوٹ بنتے ہیں۔حکومت کو محاذ آرائی کے بجائے سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ بشری بی بی کے خلاف مقدمات میں ڈھائی سال سے تاخیر کیوں کی جا رہی ہے ،سیاسی شخصیات کو بروقت انصاف ملنا چاہیے تاکہ ملک آگے بڑھ سکے۔فی الحال اڈیالہ جیل میں عمران خان سے ملاقات کے حوالے سے کوئی واضح اشارہ نہیں ملا۔انہوں نے کہ کہ عمران خان سے فوری طور پر ملاقات کا امکان دکھائی نہیں دیتا اور حکومت کے رویے سے بھی واضح اندازہ نہیں ہو رہا کہ اجازت دی جائے گی یا نہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں