لاہور (رپورٹنگ آن لائن) لاہور ہائیکورٹ نے اعلی عدلیہ کے خلاف سوشل میڈیا پر منفی پروپیگنڈا کے خلاف دائر درخواست پر تحریری حکم جاری کر دیا۔
جسٹس علی ضیاء باجوہ نے گزشتہ سماعت کا تحریری حکم جاری کرتے ہوئے کہا کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے عدلیہ کے خلاف منفی مہم اور عوام میں عدلیہ کا اعتمادن کم کرنے کا باعث بننے والے افراد کے خلاف کارروائی کریں۔تحریری حکم میں واضح کیا گیا ہے کہ یہ کارروائی جائز تنقید کو خاموش کرانے کے لیے نہیں بلکہ ادارے کی تکریم اور خودمختاری کے تحفظ کے لیے ہے۔عدالت نے کہا کہ تمام اداروں کی طرح عدلیہ بھی جائز تنقید کے معاملے پر کھلی سوچ رکھتی ہے اور عدالتی فیصلوں پر علمی، پیشہ ورانہ اور عوامی سطح پر تنقید کی جا سکتی ہے۔
عدالت کے مطابق تنقید نیک نیتی، شائستہ زبان اور فیصلے کی قانونی وجوہات تک محدود ہونی چاہیے تاہم عدلیہ کے خلاف بدنیتی پر مبنی مہم اور کردار کشی قابلِ قبول نہیں۔تحریری حکم میں کہا گیا کہ حدود سے تجاوز کرتے ہوئے کسی جج پر جانبداری یا بددیانتی کے الزامات لگانا درست نہیں اور ایسی تنقید جو نظامِ انصاف پر عوامی اعتماد کو کمزور کرے، اس کے قانونی نتائج مرتب ہوتے ہیں۔
لاہور ہائیکورٹ نے مزید کہا کہ آئین کا آرٹیکل 19اے آزادی اظہار کا حق ضرور دیتا ہے مگر یہ حق غیر مشروط نہیں ہے اور آزادی اظہار کو قانون کے تحت عائد پابندیوں کا پابند بنایا گیا ہے، ایسا اظہارِ رائے قابلِ قبول نہیں جو اسلام کی عظمت، پاکستان کی سالمیت، دفاع یا اخلاقیات کے خلاف ہو۔دورانِ سماعت ڈی جی این سی سی آئی اے نے عدالت کو آگاہ کیا کہ عدلیہ کے خلاف منفی پروپیگنڈا کرنے والے افراد کی شناخت کر لی گئی ہے اور اس معاملے کو انتہائی سنجیدگی سے دیکھا جا رہا ہے۔عدالت نے درخواست پر مزید کارروائی 22جنوری کو کرنے کا حکم دیا ہے۔







