سپریم کورٹ آف پاکستان 36

عدالت کے احاطے میں قتل کیس کا فیصلہ،سپریم کورٹ نے سزائے موت عمر قید میں تبدیل کر دی

اسلام آباد(رپورٹنگ آن لائن)سپریم کورٹ آف پاکستان نے گجرات کی سیشن عدالت کے احاطے میں ہونے والے قتل کے کیس میں ملزم کی سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کر دیا۔سپریم کورٹ میں کیس کی سماعت جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے کی۔سماعت کے دوران ملزم کے وکیل نے عدالت میں مقف اختیار کیا کہ 2010 میں ملزم کے بھائی کو سیشن عدالت کے احاطے میں قتل کیا گیا تھا جبکہ 1 سال بعد 2011 میں اسی مقام پر بھائی کے قاتل کو قتل کر دیا گیا تھا۔ملزم کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ وقوعے کے وقت ملزم کی عمر 21 سال تھی جو اب 36 سال ہو چکی ہے۔

وکیلِ صفائی نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ملزم عمر قید کی سزا پوری کر چکا ہے اور ایک سزا کے بعد دوسری سزا نہیں دی جا سکتی، جبکہ نیلسن منڈیلا رولز کے تحت بھی ملزم ریلیف کا حق دار ہے۔دورانِ سماعت جسٹس اشتیاق ابراہیم نے استفسار کیا کہ جائے وقوع سے ملنے والے 3 خولوں میں سے 2 تو برآمد پستول سے میچ ہو گئے، تاہم تیسرا خول کہاں سے آیا، اس کی وضاحت پراسیکیوشن کرے۔

جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ زینب قتل کیس کے بعد کسی کو پھانسی نہیں ہوئی اور نہ ہو گی۔انہوں نے کہا کہ ملزم اور مدعی دونوں فریق ایک دوسرے کے افراد کو قتل کر چکے ہیں اور ہماری پختون روایات کے مطابق حساب برابر ہو چکا ہے، کیس عدالت کے لیے خاصا پیچیدہ اور کنفیوزنگ ثابت ہوا۔سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ملزم کی سزائے موت کو باضابطہ طور پر عمر قید میں تبدیل کر دیا گیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں