کراچی (رپورٹنگ آن لائن)سندھ ہائی کورٹ کے آئینی بینچ نے پاکستان کاٹن ایکسچینج کی عمارت کی ملکیت کے تنازعے سے متعلق درخواست پر ایف آئی اے کو درج مقدمے پر کارروائی سے روک دیا ۔
عدالت نے فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 9 جنوری کو جواب طلب کرلیا۔سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ کے روبرو پاکستان کاٹن ایکسچینج کی عمارت کی ملکیت کے تنازعے سے متعلق درخواست کی سماعت ہوئی۔ مئیر کراچی مرتضی وہاب اپنے وکیل حیدر وحید ایڈووکیٹ کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوئے۔ حیدر وحید ایڈووکیٹ نے موقف دیا کہ کاٹن ایکسچینج کی عمارت کو سیل کردیا گیا۔
اس سلسلے میں 13 دسمبر کو ایف آئی آر بھی درج کردی گئی ہے۔ ایف آئی اے کی جانب سے عمارت سیل کرنے اور ایف آئی آر درج کرنے کے اقدامات کو غیر آئینی قرار دیا جائے۔ عدالت نے ریمارکس دیئے کہ آئندہ سماعت تک ایف آئی آر پر کوئی کارروائی نا کی جائے۔ حیدر وحید ایڈووکیٹ نے موقف دیا کہ کاٹن ایکسچینج کی عمارت کو ایف آئی اے نے 12 دسمبر کو سیل کیا تھا۔ ایف آئی اے کے مطابق ای ٹی پی بی کی معاونت اور سپریم کورٹ ہدایات پر کاروائی کی گئی۔
کاٹن ایکسچینج کے مختلف حصے غیر رسمی طور پر متعدد کرایہ داروں کو دیئے گئے۔ عدالت نے کے ایم سی کے حق میں حکم امتناع جاری کردیا۔ عدالت نے ایف آئی اے کو درج مقدمے پر کارروائی سے بھی روکتے ہوئے فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 9 جنوری کو جواب طلب کرلیا۔ کے ایم سی نے درخواست میں ایف آئی اے، متروکہ املاک بورڈ اور چیف سیکریٹری سمیت دیگر کو فریق بنایا تھا۔









