اسلام آباد (رپورٹنگ آن لائن)سپریم کورٹ آف پاکستان نے وراثتی تنازع سے متعلق کیس میں قرار دیا ہے کہ عدالت کے سامنے دیا گیا وعدہ (انڈرٹیکنگ) اور فریقین کے درمیان طے پانے والا صلح نامہ محض رسمی کارروائی نہیں بلکہ باقاعدہ عدالتی حکم کی حیثیت رکھتا ہے، جسے عملدرآمد کی کارروائی کے ذریعے نافذ کیا جا سکتا ہے۔ عدالت نے اسی بنیاد پر پشاور ہائی کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے ایگزیکیوٹنگ کورٹ کو کارروائی آگے بڑھانے کی ہدایت کر دی۔
سپریم کورٹ کی جانب سے رپورٹنگ کے لیے منظور شدہ تحریری تفصیلی فیصلہ کے مطابق سپریم کورٹ آف پاکستان میں چیف جسٹس یحییٰ آفریدی اور جسٹس شاہد بلال حسن پر مشتمل دو رکنی بینچ نے وراثتی تنازع سے متعلق کیس میں اہم فیصلہ سناتے ہوئے پشاور ہائی کورٹ کا 18 جولائی 2024 کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا اور ایگزیکیوٹنگ کورٹ کو عملدرآمد کی کارروائی قانون کے مطابق جاری رکھنے کا حکم دیا ہے۔عدالت نے مسماۃ اسماء بیگم اور دیگر کی جانب سے دائر سول پٹیشنز کو اپیل میں تبدیل کرتے ہوئے منظور کر لیا۔
کیس کے مطابق تنازع وراثتی انتقال نمبر 2534 مورخہ 18 جولائی 1996 سے متعلق تھا۔ جواب دہندگان نے دعویٰ کیا تھا کہ مذکورہ انتقال ان کے حقوق کے خلاف ہے اور انہوں نے 28 نومبر 1994 کے ایک ہبہ نامے کی بنیاد پر ملکیت کا دعویٰ کیا تھا۔مقدمہ زیر سماعت ہونے کے دوران درخواست گزاروں نے عدالت سے متنازع زمین کی پیداوار میں اپنے حصے کے حصول کے لیے رسیور مقرر کرنے کی درخواست دی تھی۔ بعد ازاں پشاور ہائی کورٹ میں کارروائی کے دوران فریقین کے درمیان ایک انڈرٹیکنگ طے پائی جس کے مطابق اگر مدعی مقدمہ ہار گئے تو وہ زمین کی پیداوار میں درخواست گزاروں کے حصے کے مطابق ادائیگی کریں گے۔
بعد میں ٹرائل کورٹ نے 17 ستمبر 2005 کو مدعیان کا مقدمہ خارج کر دیا اور یہ فیصلہ اپیل اور نظرثانی میں بھی برقرار رہا۔ اس کے بعد درخواست گزاروں نے انڈرٹیکنگ کے مطابق زمین کی پیداوار کے حصے کی وصولی کے لیے عملدرآمد کی کارروائی شروع کی۔ایگزیکیوٹنگ کورٹ نے جواب دہندگان کے اعتراضات مسترد کرتے ہوئے عملدرآمد کی درخواست قابل سماعت قرار دی، تاہم بعد ازاں اپیل اور نظرثانی کی کارروائیوں کے بعد پشاور ہائی کورٹ نے 18 جولائی 2024 کو فیصلہ دیتے ہوئے عملدرآمد کی درخواست خارج کر دی تھی۔
سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ عدالت کے سامنے دیا گیا وعدہ اور صلح کی بنیاد پر جاری ہونے والا حکم فریقین پر لازمی طور پر نافذ ہوتا ہے اور اسے محض تکنیکی بنیادوں پر غیر مؤثر نہیں بنایا جا سکتا۔عدالت نے مزید قرار دیا کہ ضابطہ دیوانی کی دفعہ 36 کے تحت عدالت کے احکامات بھی اسی طرح قابلِ عمل ہیں جیسے کسی ڈگری پر عملدرآمد کیا جاتا ہے، لہٰذا ایسے احکامات کو عملدرآمد کی کارروائی کے ذریعے نافذ کیا جا سکتا ہے۔
سپریم کورٹ نے یہ بھی واضح کیا کہ کوئی فریق عدالت کے سامنے دیا گیا وعدہ بعد میں واپس نہیں لے سکتا اور نہ ہی اس سے انکار کر سکتا ہے۔عدالت نے قرار دیا کہ ہائی کورٹ نے نظرثانی کے اختیار کا استعمال کرتے ہوئے ایگزیکیوٹنگ کورٹ کے فیصلے میں غیر ضروری مداخلت کی، جس کے باعث عدالت کے سامنے طے پانے والا صلح نامہ غیر مؤثر ہو رہا تھا۔سپریم کورٹ نے حکم دیا کہ ایگزیکیوٹنگ کورٹ عملدرآمد کی درخواست پر کارروائی دوبارہ شروع کرے اور اسے جلد از جلد قانون کے مطابق مکمل کرے۔









