یونیسیف 132

طالبان لڑکیوں کو سیکنڈری اسکول جانے کی اجازت کا جلد اعلان کریں گے، یونیسیف

کابل (ر پورٹنگ آن لائن)اقوام متحدہ کے ادارے یونیسیف کے ڈپٹی ایگزیکٹو ڈائریکٹر عمر عابدی نے کہا ہے کہ طالبان نے انہیں بتایا کہ لڑکیوں کو بہت جلد سیکنڈری اسکول جانے کی اجازت دینے کا اعلان کریں گے۔میڈیارپورٹس کے مطابق یونیسف کے ڈپٹی ایگزیکٹو ڈائریکٹر عمر عابدی نے اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹرز میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان کے 5 صوبوں میں پہلے ہی لڑکیوں کو سیکنڈری اسکول جانے کی اجازت دے دی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ طالبان کے وزیرتعلیم نے انہیں بتایا کہ وہ لڑکیوں کو چھٹی جماعت کے بعد اسکول کی تعلیم جانے رکھنے کی اجازت دینے کے لیے فریم ورک پر کام کر رہے ہیں اور یہ ایک یا دو مہینوں کے درمیان شائع کیا جائے گا۔عمر عابدی نے کہا کہ میں آپ کو آگاہ کر رہا ہوں کہ لاکھوں لڑکیاں مسلسل 27 روز سے سیکنڈری اسکول نہیں جارہی ہیں، ہم انہیں زور دے رہے ہیں کہ انتظار نہ کریں، جتنی ہم دیر کریں گے اتنا ہی ان لڑکیوں کی تعلیم کا نقصان ہوگا۔

ان کا کہنا تھا کہ ہر ملاقات میں طالبان پر زور دیا جارہا ہے کہ لڑکیوں کو تعلیم جاری رکھنے کی اجازت دی جائے جو لڑکیوں اور خود افغانستان کے نہایت اہم ہے۔انہوں نے کہا کہ جب 2001 میں امریکا اور اس کے اتحادیوں نے طالبان کی حکومت کا خاتمہ کیا تھا تو مجموعی طور پر صرف 10 لاکھ افغان بچے اسکولوں میں تھے۔یونیسیف کے سینئر عہدیدار نے کہا کہ گزشتہ 20 برسوں کے دوران افغانستان میں ہر سطح پر اسکول کے بچوں کی تعداد بڑھ کر ایک کروڑ تک پہنچی تھی اور گزشتہ دہائی میں اسکولوں کی تعداد تین گنا زیادہ 6 ہزار سے بڑھ کر 18 ہزار ہوگئی ہے۔انہوں نے بتایا کہ گزشتہ دو دہائیوں میں تعلیم کے میدان میں جو حاصل کیا گیاہے اس کو مزید مضبوط کیا جائے اور اس کو ختم نہیں ہونا چاہیے۔ان کا کہنا تھا کہ اس بہتری کے باوجود افغانستان میں 26 لاکھ لڑکیوں سمیت 42 لاکھ بچے اسکولوں سے باہر ہیں۔

عمر عابدی نے کہا کہ اگر تمام لڑکیوں کو سیکنڈری اسکول جانے کی اجازت دی جائے تو اس کے لیے روایتی مزاحمت پر قابو پانا ہوگا تاکہ ثانوی تعلیم کے لیے لڑکیوں کو اجازت ملی۔ان کا کہنا تھا کہ جن حکام سے میری ملاقات ہوئی ان کا کہنا تھا کہ جب وہ تیار ہونے والا فریم ورک جاری کریں گے تو اس سے مزید والدین اپنی لڑکیوں کو اسکول بھیجنے کے لیے تیار ہوں گے کیونکہ روایتی طور پر معاشرے میں پائے جانے والے خدشات دور کردیے جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ اب اس کو دیکھنا ہوگا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں