ہمایوں اختر خان 28

صدر کی منظوری کے بغیر آرڈیننس جاری کرنے والوں کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے، پیپلز پارٹی

اسلام آباد(رپورٹنگ آن لائن)پاکستان پیپلز پارٹی نے کہا ہے کہ صدر کی منظوری کے بغیر آرڈیننس جاری کرنے والوں کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے، پیپلز پارٹی صرف جمہوریت کیلئے حکومت کی اتحادی ہے ،وزیراعلیٰ کے پی کو اپنے صوبے کا خیال رکھنا چاہیے، وہ صوبے میں حالات ٹھیک کریں۔

ان خیالات کا اظہار پاکستان پیپلز پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل ہمایوں خان، مرکزی سیکرٹری اطلاعات پی پی پی پی شازیہ مری اور رکن قومی اسمبلی سحر کامران نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔سیکرٹری جنرل پاکستان پیپلز پارٹی ہمایوں خان نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ، پچھلے تیرہ سال سے کے پی میں جنگلات کی تباہی ہو رہی ہے۔ صدر مملکت نے آرڈینینس پر دستخط نہیں کئے لیکن پھر بھی جاری کر دیا گیا۔سی پیک کے بانی بھی صدر آصف علی زرداری ہیں۔

اس وقت سب کی نظریں صدر آصف علی زرداری پر ہیں. انہوں نے کہا کہ، پیپلز پارٹی صرف جمہوریت کے لئے حکومت کی اتحادی ہے، صدر کی منظوری کے بغیر آرڈیننس جاری کرنے والوں کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔ انہوںنے کہاکہ سندھ کے وزیر اعلیٰ نے مجھ سے گلہ کیا، وزیراعلیٰ کے پی کو اپنے صوبے کا خیال رکھنا چاہیے، وہ صوبے میں حالات ٹھیک کریں۔ سیکرٹری جنرل پاکستان پیپلز پارٹی نے کہا کہ، وزیر اعلی سندھ نے روایت کے مطابق وزیر اعلیٰ کے پی کے کو ٹوپی اور اجرک بھی پہنائی،سندھ حکومت نے وزیراعلیٰ کے پی کو ہر قسم کی سہولیات دیں لیکن اس کے باوجود ایسا رویہ انتہائی غلط ہے۔

انہوںنے کہاکہ سڑک تو دس لوگ بھی روک سکتے ہیں،ہم کے پی کے وزیراعلیٰ کے رویے کی پرزور مذمت کرتے ہیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی کی مرکزی سیکرٹری اطلاعات شازیہ مری نے کہا کہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کا ایک ڈھانچہ ہونا چاہیے، پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ سندھ میں کامیابی سے چل رہا ہے، حکومت کو پی آئی اے کی نجکاری کرتے ہوئے ملازمین اور اثاثوں کا خیال رکھنا چاہیے تھا، اوپن سکائی پالیسی کی وجہ سے پی آئی اے کو تاریخی نقصان ہوا ہے۔شازیہ مری نے کہا کہ ایک سابق وزیر کی وجہ سے پی آئی اے کو چھ سوملین کا نقصان ہوا ہے، اس کا کوئی احتساب نہیں ہوا کوئی پتہ نہیں وہ کہاں ہے،

حکومت کو اس معاملے کا احتساب کرنا چاہیے،اس طرح قومی اداروں سے کھلواڑ نہیں ہونا چاہیے، پی آئی اے کو ایک دن میں نہیں آہستہ آہستہ نقصان پہنچایا گیا۔انہوں نے کہا کہ سندھ میں کئی منصوبے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت چل رہے ہیں۔وزیر خزانہ نے کئی بار تسلیم کیا کہ سندھ کا پبلک پرائیویٹ ماڈل اچھا ہے، وفاق بار بار نجکاری کا نعرہ لگانے کی بجائے پرائیویٹ کی شراکت کے ساتھ چلانے کا منصوبہ بنائیں۔ مرکزی سیکرٹری اطلاعات پی پی پی نے کہا کہ، پاکستان پیپلز پارٹی کا نجکاری سے متعلق مئوقف واضح ہے،پیپلز پارٹی نے نجکاری کو ہمیشہ سنجیدگی سے لیا ہے۔وزیراعظم اپنی کابینہ کو ہدایت کریں کہ جو ادارے حکومت نہیں چلا سکتی انہیں پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ سے چلانا چاہیے۔

شازیہ مری نے کہا کہ اسلام آباد میں بڑے پیمانے پر درختوں کی کٹائی ہو رہی ہے۔انہوںنے کہاکہ تیس ہزار کے قریب درخت کاٹے گئے ہیں، درختوں کی کٹائی پر پریس کانفرنس ہونی چاہیے تھی، پہلے عوام کو اپنے اعتماد میں لیتے پھر درختوں کی کٹائی کی بات کرتے۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے درختوں کی کٹائی کا معاملہ ایوان میں اٹھایا ہے۔ وزیر داخلہ نے ایسے جواب دیے ہیں کہ نئے سوال پیدا ہو گئے ہیں۔درختوں کی کٹائی ایسا عمل ہے جو شفافیت پر سوال اٹھا رہا ہے اس طرح کے معاملات پر ہم سوال اٹھائیں گے۔

شازیہ مری نے کہا کہ اسلام آباد میں کھجور کے درخت لگائے جا رہے ہیں۔ ایسے درخت لگانے سے پہلے دیکھا جائے کہ اس اراضی کے لئے کون سے درخت ہیں۔ یہ انکی بہت بری منصوبہ بندی ہے۔ سب کو نظر آرہا ہے تو انہیں کیوں نہیں نظر آ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وجہ سے کئی لوگوں کو بے گھر کیا جا رہا ہے اور پیپلز پارٹی اس کی مذمت کرتی ہے،گھر دینا ریاست کی ذمہ داری ہے،حکومت کے ساتھ طے ہوا تھا کہ قانون سازی پر اعتماد پر لیا جائے گا۔مگر کئی مرتبہ ہمیں اعتماد میں نہیں لیا جاتا اور ہمیں احتجاج کے ساتھ ترمیم بھی لانی پڑتی ہیں۔شازیہ مری نے کہا کہ آرڈیننس پر بھی ہمارے ساتھ بات کرنی چاہیے تھی۔

چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ قانون سازی پر ہمیں اعتماد میں لیا جائے۔ اپوزیشن صرف شور شرابہ کرنے میں مصروف ہے۔ بیس تاریخ کو مشترکہ اجلاس کے متعلق پتا چلا ہے لیکن ابھی تک ہمیں اعتماد میں نہیں لیا گیا۔ رکن قومی اسمبلی سحر کامران نے کہا کہ پارلیمنٹ ہاؤس میں پیپلز پارٹی ہمیشہ عوامی مسائل اجاگر کرتی ہے۔ پی آئی اے کی نجکاری کی شفافیت پر برملا بات کی ہے، ملازمین کے حقوق اور کسانوں کو درپیش مسائل پر بھی پیپلز پارٹی نے ہمیشہ آواز اٹھائی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں