طلال چوہدری 45

صدر مملکت پی ٹی آئی کے کونسلر ،جن کے پاس ناک صاف کرنے کا اختیار نہیں وہ الیکشن کی تاریخ کیسے دے سکتے ہیں’ طلال چوہدری

لاہور(رپورٹنگ آن لائن) پاکستان مسلم لیگ (ن) کے مرکزی رہنما طلال چوہدری نے کہا ہے کہ صدر مملکت پی ٹی آئی کے کونسلر بن کر کام کر رہے ہیں،جن کے پاس اپنی ناک صاف کرنے کا اختیار نہیں وہ الیکشن کی تاریخ کیسے دے سکتے ہیں،عمران خان پروفیشنل بھکاریوں کی طرح پلستر چڑھا کر ضمانت کی بھیک مانگے رہے ہیں،روانہ زمان پارک میں فٹنس مشین ٹریڈ مل پر دوڑتے ہیں ویڈیو دیکھی ہے جو جلد سامنے آ جائے گی، عمران خان کا ٹریک ریکارڈ دیکھ لیا جائے تو انہوں نے سیاست میں پرویز مشرف کے دور کے سوا ہر سول حکومت کے دور میں احتجاج کیا ہے ، جیلیں بھرنے کے لئے حوصلہ چاہیے ہوتا ہے جو عمران خان میں نہیں ہے ،خود بنکر میں ہیں اور اپنے بچے لندن میں جبکہ لوگوں کے بچے جیلیں بھریں، پی ٹی آئی کے لئے یہی سزا کافی ہے جو انہیں پرویز الٰہی کی صدارت کی صورت میں ملی ہے۔

ماڈل ٹائون میں حنا پرویز بٹ کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے طلال چوہدری نے کہا کہ عمران خان آمریت کے لئے ووٹ مانگتے رہے ہیں لیکن سول حکومتوں کے خلاف ہمیشہ سڑکوں پر رہے ہیں ، ان کی اپنی حکومت تھی تو اپنے اے ٹی ایم ،بنی گالہ اور اپنی گھر والی کی تجوری بھرتے رہے ہیں،عمران خان کی سیاست کا احاطہ کریں تو انہوں نے کبھی آمریت کے خلاف کبھی احتجاج نہیں لیکن ہر سول حکومت کے خلاف دھرنا ، لانگ مارچ کیا ہے اور اب جیل بھرو تحریک کا آغاز کرنا چارہے ہیں۔ یہ چار وفاقی حکومت میں رہے ، دس سال خیبر پختوانخواہ میں ان کی حکومت رہی لیکن ان کی حکومتوں کی کیا کارکردگی یہ گنوا نہیں سکتے ، کردار صرف حکومت کا نہیں ہوتا اپوزیشن کا بھی ہوتا ہے، جنہوں نے حکومت میں کچھ نہیں کیا انہوں نے اپوزیشن میں بھی کچھ نہیں کیا ، ہم نے اپوزیشن میں رہتے ہوئے اٹھارویں ترمیم میں پورا کردار ادا کیا ،پیپلز پارٹی اٹھاون ٹون بی کے خاتمے کیلئے بیٹھ کر بات کرتی رہی لیکن عمران خان واحد اپوزیشن ہے جس کا ملک کے مفاد میں کوئی کردار نہیں ہے ۔

انہوں نے کہا کہ جیلیں بھرنے کیلئے حوصلہ چاہیے ہوتا ہے ، ہم نے عمران خان کی زندگی بھر کبھی حوصلہ نہیں دیکھا ، خود آپ بنکر میں ہوں بچے آپ کے لندن میں ہوں اورلوگوں کے بچے جیلیں بھریں ، تحریک وہ ہوتی ہے جسے فرنٹ سے لیڈ کیا جائے ، لیڈر شپ دکھائی جائے ۔ میاں نواز شریف کے خلاف جب فیصلہ آیا تو وہ اپنی بیٹی کا ہاتھ پکڑ کر جیل گئے ، ظلم ہو ، جبر ہو اس کا سامنا سب سے پہلے لیڈر کررتا ہے ، لیڈر بزدل نہیں ہوتا،لیڈر بزدل ہوں تو جیلیں بھرنا تو دور کی بات تحریک کامیاب ہو نہیں سکتیں ۔انہوں نے کہا کہ آپ اپنے خلاف نیب کے نوٹسز ،ایف آئی اے کی انکوائریوں پر حکم امتناعی واپس لے لیں ،توشہ خانہ ،فارن فنڈنگ ، سائفر پر آپ حکم امتناعی پر ہیں،ٹیریان کیس پر حیلے بہانے بنا رہے ہیں، دفعہ144سے لے کر جو بھی آپ پر پرچے ہوں آپ یا تو حفاظتی ضمانت پر ہیں یا حکم امتناعی پر ہیں ،آپ حوصلہ کریں اور عدالتوں میںپیش ہوں ،آپ سمجھتے ہیں حکومت کی طرح آپ یہاں بھی شعبدہ بازی کر لیں گے ،جس طرح آپ نے ا یک کروڑ نوکریاں اور پچاس لاکھ گھر دئیے اسی طرح جیلیں بھی بھر دینی ہے، ہم جیلیں ہم بے گناہوں سے نہیں بھریں گے، کسی بے گناہ کارکن کو آپ کی اقتدار کی ہوس کی بھینٹ نہیں چڑھائیں گے ۔

آپ نے اعلان کیا پہلے روز ڈھائی سو لوگ جیل میں جائیں گے مال روڈ پر آپ کا سو بندہ نہیں پہنچا ،ہم نے پکڑنے تو نہیں تھے آپ حاضری ہی لگوا لیتے ۔انہوں نے کہا کہ اس قدر سہولت ہونے کے باوجود عمران خان کا ابھی تک اندر کا ڈر نہیں نکلا ،پنجاب میں اس لئے ہیں کیونکہ انہیں یہاں لاہور ہائیکورٹ بڑی اچھی لگ رہی ہے ان کے فیصلوں سے وہ بہت محفوظ ہیں ، ماضی میں یہی عمران خان لاہور ہائیکورت کو طعنے مارا کرتے تھے تنقید کیا کرتے تھے ،آج لاہور ہائیکورٹ انہیں کیسے لگ رہی ہے ۔ ہم نے کبھی ایسا نہیں دیکھا صبح آٹھ بجے آ جائیں،بارہ بجے ،دو بجے آ جائیں ،چھ بجے ،آٹھ بجے آ جائیں ، کسی محبوب کو پہلی بار ملنا ہوتو اتنی بار نہیں بلاتے کہ تے ایک بار تو آ جائو ، اگر آج لاہور ہائیکورٹ صحیح فیصلے کر رہی یہ تو ماضی میں کہی گئی اپنے باتوں پر معذرت کر لیں ۔ پنجاب کو اچھی منصف کی ضرورت ہے اچھے سسر کی ضرورت نہیں ۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے تو کبھی کسی پر اعتراض نہیں اٹھایا تھا ،کئی ججز صاحبان ریٹائر ہو چکے ہیں جن کے چہروں سے کنڈکٹ سے ہمارے لئے متعصبانہ رویہ ظاہر ہوتا تھا ، وہ نواز شریف اور (ن)لیگ کو دیکھنا نہیں چاہتے ، ایک جیسے بنچز نے ہمیںکئی درجن سزائین دیں اور ہم نے وہ قبول کی ہیں،عمران خان کی تو خواہش ہے کہ ریٹائرز کو بحال کر کے ان کا بھی بنچ بنا دیا جائے لیکن اب ایسا نہیں ہوگا ، ہمیں جس کے رویے پر اعتراض ہے جس کے فیصلے انصاف کے ترازو میں پورے تولے نہیں جاتے ہم ان پر اعتراض گے،یہ نہیں ہو سکتا ہم جھکتے چلے جائیں اور آپ ہمیں کاٹتے چلے جائیں اور ہم کٹتے چلے جائیں ،ہم اپنا آئینی حق استعمال کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ پرویز الٰہی جو ظہور الٰہی کا نہیں بنا وہ عمران خان کا کیا بنے گا، پرویز الٰہی نے اعلان کیا تھا میں پرویز مشرف کو دس بار باوردی صدر بنوائوں گا ،پرویز مشرف انہیں ڈھونڈتا ڈھونڈتا دنیا سے چلا گیا پرویز الٰہی نظر نہیں آیا ، چوہدری شجاعت بزرگ آدمی ہیں ، یہ ان کی انہیں انگلی پکڑ کر سیاست اور اقتدار میں آئے لیکن بزرگ کو بھی دھوکہ دیا ،

عمران خان صاحب یہ گھس بیٹھیے ہیں یہ پی ٹی آئی پر قبضہ کریں گے اور ان کو صدر بنا دیا گیا ہے ، یہ صدر فار نیپی چینچ ہیں،پرویز الٰہی نے کہا تھاکہ عمران خان کی نیپیاں بدلتی جاتی تھیں،پرویز الٰہی بھی نیپی لگا کر سیاست کرتے رہے ہیں،تحریک انصاف میں تو صدر کا عہدہ ہے ہی نہیں ، ہمیں پرویز الٰہی کے تحریک انصاف میں شامل ہونے پر حیرانی نہیں ہوئی ،آپ نے مال کھایا ہوا ہے ، کیا بات ہے کہ جن کو عمران خان ڈاکو کہا کرتے تھے اب جناب صدر کہا کریں گے، پی ٹی آئی کے وہ نوجوان جو پرویز الٰہی کو ڈاکو کہتے کہتے بڑے ہوگئے ہیں وہ ان کو صدر صدر کہا کرین گے ،یہ پی ٹی آئی والوں کے لئے کم سزا نہیں جو انہیں پرویز الٰہی کی صدارت کی صورت میںمل رہی ہے ۔انہوں نے کہاکہ جیل بھرو تحریک میں وہ جیل میں جائے گا جس نے کرپشن کی ہے جس پر مقدمات ہیں،عمران خان کی خواہش نہیں بلکہ قانون کی خواہش کے مطابق پکڑ ے جائیں گے ۔آپ خود کبھی بنی گالہ اور کبھی زمان پارک میں چھپے ہوتے ہیں ، قانون اپنا راستہ خود لے گا ۔

انہوں نے کہا کہ آپ نے ہائیکورٹ میں پیشی کو سیاسی طور پر استعمال کیا ، افسوس کی بات ہے کہ ہم ایک فقرہ کہتے تھے تو نوٹس مل جاتا ہے ،عمران خان کی پیشی کے لئے ہائیکورٹ پہنچو کے ہیش ٹیگ چلائے گئے ، عمران خان کی گاڑی زمان پارک سے پانچ کی سپیڈ سے نکلی تاکہ کسی طرح بندے جمع ہو جائیں۔ عام آدمی دو منٹ لیٹ ہو جائے تو اس کی فائل مسترد کر دی جاتی اور اس کو دوسرا موقع نہیں ملتا، عمران خان کو گیارہ موقع دئیے گئے ہیں، اسلام آباد کی دہشتگردی کی عادلت سے لاہور ہائیکورٹ تک مجموعی طور پر سولہ مواقع دئیے گئے ہیں اس کے باوجود عمران خان نے عدالت میں پیش ہو کر عدالت کی عزت میں کوئی اضافہ نہیں کیا بلکہ اپنا جلسہ کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مریم نواز بات کرتیت ھیں تو جج صاحب ناراض ہو جاتے تھے کوئی اونچی آواز میں بول پڑتا تھا ڈانٹ دیا جاتا تھا چپ کرا دیا جاتا تھا لیکن عمران خان نے اپنی پیشی کو عدالت کے احاطے میں مینج کر کے سیاسی ایونٹ بنادیا اور اس پر آج تک انہیںنوٹس نہیں ہوا ، مطالبہ ہے کہ سب کو ایک طرح سے جانچیں ۔ عمران خان پیش ہوئے ہیں توجعلی دستخطوں والا کیس بھی ختم ہو گیا ،عمران خان پیش ہو جائیں تو ان کے جرائم معاف ہو جائیں گے ، ان کا عدالت میں پیش ہونا کوئی احسان تو نہیں ہے ، ہزاروں لوگ عدالتوں میںپیش ہوتے ہیں یہ کوئی اوپر سے اترے ہوئے ہیں ، اس طرح کے اقدامات سے عام لوگوں کو تنقید کرنے کا موقع ملتا ہے ، عمران خان کے ساتھ بھی وہی سلوک ہونا چاہیے جس طرح ایک عام آدمی سے کیا جاتا ہے ۔

طلال چوہدری نے کہا کہ علی افضل ایک بہت طاقتور آدمی کے عزیز ہیں ،عمران خان اور ان کی گھر والی کے کیسز پران کو دھمکیاں اور دبائو میں ڈالا جارہا ہے ، عمران خان نے عدالتوں کے سامنے پیش ہونا سیکھا ہی نہیں ، یہ چاہتے ہیں کوئی ان کی گھر والی کو نہ پوچھے،ان کے پردے میں توشہ خانے کے تحائف اور گھڑیاں ہیں ،لاہور ہائیکورٹ پر لازمی دبا ئوہو گا۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب میں نگراں حکومت ہے جو گرفتاریوں کے حوالے سے اپنا فیصلہ کرے گی ،ہمیں نگراں حکومت پر اعتراض ہے کہ ہائیکورٹ میں اس دن ڈرامہ نہیں لگنا چاہیے تھا ،ہم عمران خان کو گرفتار نہیں کرنا چاہتے لیکن ان کے اپنے کرتوت ایسے ہیں کہ قانون اپنا راستہ بنائے ۔ انہوںنے کہا کہ صدر کے پاس اپنا ناک صاف کرنے کا بھی اختیار نہیں ،انہوں نے پاکستان کو تماشہ بنا دیا ہے تاکہ آئندہ الیکشن متنازعہ ہوں، صدر مملکت پی ٹی آئی کے کونسلر بن رہے ہیں ۔

انہوںنے کہا کہ بہت سے کیسز پر قانونی کارروائی نہیں ہو رہی تھی اس لئے نیب نے اب کارروائی شروع کی ہے ،بی آر ٹی پشاور، بلین ٹریزمنصوبہ، لاہور رنگ روڈ سمیت دیگر منصوبوں پر کرپشن کے کیسز میں پیشرفت نہیں ہونی چاہیے ،توشہ خانہ کی مہنگی گھڑیوں کے معاملے پر کیوں نا انہیں پوچھا جائے ، جو مرضی ہو جائے عوامی پیسہ ہر صورت ریکور کیا جائے گا ،عمران خان کو عوام کے ریلیف سے کوئی لینا دینا نہیں ،عمران خان آٹا، چینی، بجلی کے لئے کوئی احتجاج نہیں کر رہے ،یہ پرویز الٰہی کو وزیراعلی اور خود کو دوبارہ وزیراعظم بنوانا چاہتے ہیں ،عمران خان ٹانگ پر پلستر چڑھا کر ضمانت مانگ رہے ہیں بالکل اسی طرح جیسے فقیر جعلی پلستر لگا کر بھیک مانگتے ہیں ،عمران خان کی ویڈیو آئے گی جس میں وہ ٹریڈ مل پر دوڑ لگا رہے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں