مفت پٹرول ، بجلی، گیس 147

صدر، وزیراعظم، وزرا، بیوروکریسی کے لئے مفت پٹرول ، بجلی، گیس،ختم کرنے سے متعلق رٹ کی لاہورہائی کورٹ میں سماعت۔

تنویر سرور۔

ملک میں واپڈا ملازم سالانہ 44 کروڑ یونٹ مفت میں پھونک ڈالتے ہیں۔صدر، وزیراعظم، وفاقی و صوبائی وزراء، ممبران پارلیمنٹ اور بیوروکریسی کو مفت پٹرول، مفت بجلی ، مفت گیس جیسی سہولیات کی فراہمی بند کی جائے۔
لاہور ہائی کورٹ کے مسٹر جسٹس شاہد کریم کی عدالت میں اہم کیس کی سماعت ہوئی۔

درخواست گزار نے عدالت کو بتایا کہ صدر، وزیراعظم، گورنرز، وزرا اعلی ہی نہیں بلکہ وفاقی و صوبائی وزراء بھی پٹرول، بجلی ، گیس وغیرہ کا مفت اور لامحدود Unlimited استحقاق رکھتے ہیں۔
جو آئین کے آرٹیکل 25 کی خلاف ورزی ہے۔

مفت پٹرول، گیس
ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی اور عام آدمی کی درپیش مشکلات کو مد نظر رکھتے ہوئے ایلیٹ کلاس کی مراعات کے خاتمے کے لئےلاہور ہائیکورٹ میں دائر کردہ رٹ پٹیشن
تنویر سرور نامی شہری نے ایڈووکیٹ شہباز اکمل جندران اور ایڈووکیٹ ندیم سرورکی وساطت سے دائر کی۔
ایڈووکیٹ شہباز اکمل جندران
بنچ نے درخواست گزار کی طرف سے پیش کردہ امدادی دستاویزات کمرہ عدالت میں وصول نہ کرتے ہوئے کہا کہ دستاویزات متفرق درخواست کے ذریعے پیش کی جائیں۔اور سماعت ملتوی کردی
ایڈووکیٹ ندیم سرور
واضح رہے رٹ پٹیشن میں شہری کی طرف سے موقف اختیار کیا گیا کہ ایک طرف ملک میں مہنگائی روزبروز بڑھنے رہی ہے تو دوسری طرف ایک مخصوص طبقے کی مراعات بڑھتی ہی جارہی ہیں۔انہیں سرکاری گھر، مفت پٹرول، مفت بجلی، مفت گیس، مفت ٹیلیفون، مفت گاڑیاں اور گھروں و دفاتر میں ائیرکنڈیشنرز دیئے گئے ہیں۔

درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ صدر، وزیراعظم، گورنرز اور وزیراعلٰی کے دفاتر می سکول، کالج اور یونیورسٹیاں قائم کی جائیں۔جبکہ وفاقی و صوبائی وزراء ، کمشنرز، ڈپٹی کمشنرز، ڈی پی اوز، ضلعی انتظامیہ اور ریلوے افسران یے دفاتر نیلام کرکے رقم قومی خزانے میں جمع کروائی جائے۔

پٹیشن میں مزید استدعا کی گئی کہ تمام وفاقی وصوبائی وزرا اور بیوروکریٹس کو مفت بجلی، مفت پٹرول، گیس اور ٹیلیفون کی سہولتیں ختم کی جائیں۔

گریڈ 20 سے کم عہدے کے افسروں کے دفاتر میں ائیرکنڈیشنرز بند کئے جائیں۔
گریڈ 20 اور اسے بڑے عہدوں پرگاڑیوں کی مدمی مونیٹائزیشن پالیسی دی جائے اور 20گریڈ سے چھوٹے افسروں کو صرف پک اینڈ ڈراپ دی جائے۔

سرکاری خرچے پر تین سال کے لئے بیرون ملک ٹریننگز بند کی جائیں اور بہت ضروری ٹریننگز کے لئے وفاقی و صوبائی سطح پر کمیٹیاں تشکیل دی جائیں۔

درخواست گزار نے مزید استدعا کی یے کہ سرکاری خزانے سے ڈنر اور لنچ بند کئے جائیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں