تنویر سرور۔۔۔
ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی اور عام آدمی کی درپیش مشکلات کو مد نظر رکھتے ہوئے ایلیٹ کلاس کی مراعات کے خاتمے کے لئےلاہور ہائیکورٹ میں رٹ پٹیشن دائر کر دی گئی ہے۔

رٹ پٹیشن تنویر سرور نامی شہری کی طرف سے ایڈووکیٹ شہباز اکمل جندران اور ایڈووکیٹ ندیم سرورکی وساطت سے دائر کی گئی ہے۔

پٹیشن میں موقف اختیار کیا گیاہے کہ ایک طرف ملک میں مہنگائی روزبروز بڑھنے رہی ہے تو دوسری طرف ایک مخصوص طبقے کی مراعات بڑھتی ہی جارہی ہیں۔انہیں سرکاری گھر، مفت پٹرول، مفت بجلی، مفت گیس، مفت ٹیلیفون، مفت گاڑیاں اور گھروں و دفاتر میں ائیرکنڈیشنرز دیئے گئے ہیں۔

درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ صدر، وزیراعظم، گورنرز اور وزیراعلٰی کے دفاتر می سکول، کالج اور یونیورسٹیاں قائم کی جائیں۔جبکہ وفاقی و صوبائی وزراء ، کمشنرز، ڈپٹی کمشنرز، ڈی پی اوز، ضلعی انتظامیہ اور ریلوے افسران یے دفاتر نیلام کرکے رقم قومی خزانے میں جمع کروائی جائے۔
پٹیشن میں مزید استدعا کی گئی کہ تمام وفاقی وصوبائی وزرا اور بیوروکریٹس کو مفت بجلی، مفت پٹرول، گیس اور ٹیلیفون کی سہولتیں ختم کی جائیں۔

گریڈ 20 سے کم عہدے کے افسروں کے دفاتر میں ائیرکنڈیشنرز بند کئے جائیں۔
گریڈ 20 اور اسے بڑے عہدوں پرگاڑیوں کی مدمی مونیٹائزیشن پالیسی دی جائے اور 20گریڈ سے چھوٹے افسروں کو صرف پک اینڈ ڈراپ دی جائے۔

سرکاری خرچے پر تین سال کے لئے بیرون ملک ٹریننگز بند کی جائیں اور بہت ضروری ٹریننگز کے لئے وفاقی و صوبائی سطح پر کمیٹیاں تشکیل دی جائیں۔
درخواست گزار نے مزید استدعا کی یے کہ سرکاری خزانے سے ڈنر اور لنچ بند کئے جائیں۔






