کراچی(ر پورٹنگ آن لائن) چڑیا گھر میں نایاب نسل کے سفید شیر کی ہلاکت کے بعد فنکاروں نے انتظامیہ پر شدید تنقید کرتے ہوئے چڑیا گھر بند کرنے کا مطالبہ کردیا۔اداکارہ اشنا شاہ نے مرے ہوئے شیر کی تصویر انسٹاگرام پر شیئر کرتے ہوئے چڑیا گھر کی انتظامیہ پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ انتظامیہ شیر کی موت کی ذمہ دار تپ دق کی بیماری کو قرار دینے کی کوشش کررہی ہے لیکن ہم سب جانتے ہیں کہ ٹھیکیدار نے جانوروں کو کھانا دینا بند کردیا تھا اور یہ نایاب جانور ایک لمبے عرصے سے بھوکے تھے۔اداکارہ اشنا شاہ نے اپنے تمام فالوورز کو بتایا کہ ہم نے جانوروں اور جنگلی حیات کی دیکھ بھال کرنے میں نااہلی کا مظاہرہ کیا ہے لہٰذا چڑیا گھروں کو فوری طور پر ختم کردینا چاہئے۔ پاکستان کے پاس جانوروں کو اتنی مقدار میں بھی کھانا کھلانے کے پیسے نہیں ہیں جتنی کہ انہیں ضرورت ہے۔
اداکارہ عائشہ عمر نے بھی کراچی چڑیا گھر میں شیر کی ہلاکت پر افسوس کا اظہار کیا اور شیر کی ہلاکت کی وجہ تپ دق کی بیماری کو قرار دینے پر انتظامیہ پر شدید تنقید کی۔سماجی کارکن شنیرا اکرم نے بھی کراچی چڑیا گھر میں شیر کی ہلاکت کی مذمت کرتے ہوئے کہا یہ مرگیا کیونکہ ہم اس کی دیکھ بھال نہیں کرسکے۔ چڑیا گھر وہ جگہ ہونی چاہئے جہاں جانور تحفظ، صحت کی سہولیات، بحالی، تفریح اور افزائش کیلئے جاتے ہیں۔ کم از کم لوگ پھر ان کا مشاہدہ کرنے جاسکتے ہیں۔ شنیرا اکرم نے چڑیا گھر کو جانوروں کی جیل قرار دیا۔اداکارہ یشما گل نے بھی شیر کی ہلاکت کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا۔
انہوں نے بتایا کہ وہ اپنے منیجر کے ہمراہ کراچی چڑیا گھر گئی تھیں جانوروں کیلئے کھانا لے کر لیکن انہیں کہا گیا کہ مسئلہ حل ہوچکا ہے اور شیر سمیت تمام جانوروں کو مناسب خوراک فراہم کی جارہی ہے۔ تاہم 5 گھنٹے بعد انہیں اپنے ایک دوست کی طرف سے یہ تصویر موصول ہوئی۔ انہوں نے چڑیا گھر کی انتظامیہ پر برستے ہوئے کہا جو بھی اس جرم میں ملوث تھا کیا اب آپ خوش ہیں۔ کیا حکومت اب فنڈز جاری کردے گی۔یشما گل نے ایک اور انسٹااسٹوری پر چڑیا گھر کو ختم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا خاص طور پر ہمارے جیسے ممالک میں جہاں ہم جانوروں کی خوراک کا انتظام بھی کرنے کے متحمل نہیں ہوسکتے۔









