شیخوپورہ 2

شیخوپورہ میں پراپرٹی ٹیکس سکینڈل،ایکسائز آڈٹ افسروں پر رشوت خوری کا الزام سامنے آگیا

رپورٹنگ آن لائن۔
پنجاب کے محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن میں ایک بڑا سکینڈل منظر عام پر آیا ہے، جہاں شیخوپورہ میں پراپرٹی ٹیکس کے آڈٹ کے دوران اسسٹنٹ ڈائریکٹر آڈٹ اینڈ انفورسمنٹ تبسم اور عاکف پر مبینہ طور پر لاکھوں روپے رشوت لینے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق، یہ رشوت آئی ٹی او ایکسائز شیخوپورہ ثاقب بھٹی سے وصول کی گئی تاکہ آڈٹ رپورٹ میں نرمی برتی جائے اور غیر تشخیص شدہ یا کم تشخیص شدہ پراپرٹی یونٹس کو رپورٹ سے حذف کیا جائے۔

زرائع کے مطابق، ایکسائز انسپکٹر شیخوپورہ قدیر گجر نے شہر کے ہر سرکل کے انسپکٹر سے 10 سے 15 ہزار روپے کی کولیکشن کی تاکہ تیار کردہ چارج شیٹ سے بچا جا سکے۔

یہ رقم مبینہ طور پر دیگر سٹاف سے اکٹھی کی گئی اور آڈٹ ٹیم کو ادا کی گئی۔ جن پراپرٹی ٹیکس سرکلوں کا آڈٹ کیا گیا، ان میں انسپکٹر رانا اعجاز کا پراپرٹی ٹیکس سرکل بلاک 10 رائٹ، انسپکٹر رانا سعید کا پراپرٹی ٹیکس سرکل بلاک 10 لیفٹ، انسپکٹر عبد الستار کا پراپرٹی ٹیکس سرکل بلاک 9، ، انسپکٹر قدیر گجر کا پراپرٹی ٹیکس سرکل بلاک کوٹ عبدالمالک، اور انسپکٹر حامد خان کا پراپرٹی ٹیکس سرکل بلاک ون شامل بتائے گئے ہیں

ذرائع نے بتایا کہ ان سرکلوں کے آڈٹ کے دوران بینکس اور کئی بڑے پراپرٹی یونٹس کو رعایت دی گئی جو آڈٹ میں پکڑے گئے تھے۔ بدلے میں، آڈٹ ٹیم نے ان یونٹس کو رپورٹ سے خارج کر دیا، جس سے حکومتی خزانے کو کروڑوں روپے کا نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔ ذرائع کے مطابق، یہ رشوت کی ڈیل چند ہفتے قبل مکمل ہوئی۔

اس سلسلے میں جب ڈائریکٹر آڈٹ اینڈ انفورسمنٹ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن پنجاب عاصم آمین اور ای ٹی او ایکسائز شیخوپورہ ثاقب بھٹی سے رابطہ کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ “یہ آڈٹ ہماری موجودہ تعیناتی سے قبل کنڈکٹ کیا گیا تھا اور ہمیں اس کے متعلق کچھ معلوم نہیں۔” تاہم، ذرائع کا دعویٰ ہے کہ یہ ڈیل حالیہ دنوں میں طے پائی ہے۔

دوسری طرف اسسٹنٹ ڈائریکٹر انفورسمنٹ اینڈ آڈٹ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن پنجاب تبسم علی اور محمد عاکف نے الزامات کو بے بنیاد اور ان سے لاعلمی کا اظہار کیا۔

زرائع کے مطابق ،محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن کے اعلیٰ حکام نے اس معاملے کی تحقیقات کا عندیہ دیا ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں