اسلام آ باد (رپورٹنگ آن لائن) پاکستان اکانومی واچ کے صدر ڈاکٹر مرتضیٰ مغل نے کہا ہے کہ مرکزی بینک کی جانب سے شرح سود میں ڈیڑھ فیصد کازبردست اضافہ عوام پر بم بن کر گرے گا ۔
اس سے مہنگائی بے روزگاری غربت افراتفری اور ملک پر عائد قرضوں میں زبردست اضافہ ہو جائے گا۔جلد ہی مرکزی بینک شرح سود میں مزید اضافہ کرے گا جبکہ حکومت گیس پٹرول اور بجلی کی قیمتیں بڑھائے گی مگر صورتحال بہتر بنانے کے لئے اپنے شاہانہ اخراجات کبھی بھی کم نہیں کرے گی جس سے روپیہ جو ایشیاءکی بد ترین کرنسی بن چکی ہے پر دباﺅ قائم رہے گا۔
ڈاکٹر مرتضیٰ مغل نے یہاں جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا کہ شرح سود میں اضافہ امریکہ کی جانب سے پاکستان کے چین سے قریب ہونے اور ملکی مفادات کے مطابق افغان پالیسی اختیار کرنے کی سزا دینے کے فیصلے کی پہلی کڑی ہے۔ اس وقت ناکام اقتصادی پالیسیوں کی وجہ سے کرنٹ اکاﺅنٹ خسارہ تمام اہداف کو عبور کرنا ہوا4.7 فیصد تک بڑھ گیا ہے جس میں مزید اضافہ ہو رہا ہے جبکہ شرح سود میں اضافہ سے ملک پر عائد قرضوں میں کم از کم تین سو ارب روپے کا اضافہ ہو چکا ہے جو عوام بھگتے گی۔
پاکستان کو ایشیاءکا سب سے مہنگا ملک بنانے ک اور چھ ماہ میں اسکی قدر میں چودہ فیصد کمی کرنے کے بعداب شرح نمو میں اضافے کے بجائے معاشی استحکام پر زور دیا جا رہا ہے کیونکہ ا فراط زر آسمان کو چھو رہا ہے ور ادائیگیوں کا توازن سنگین خطرات سے دوچار ہے اور آئی ایم ایف اپریل سے اس سلسلہ میں وارننگ دے رہا تھا مگر حکومت کو معیشت سے زیادہ اپنی شہرت کی پڑی ہوئی تھی۔ ڈاکٹر مغل نے کہا کہ اب شرح سود 8.75 فیصد ہو چکی ہے جس سے کاروباری برادری کے اخراجات بڑھیں گے جسے وہ عوام پر منتقل کر دینگے۔
ابھی تک آئی ایم ایف نے معاہدے پر دستخط کرنے سے انکارکیا ہوا ہے اور اس کا موقف ہے کہ تمام پیشگی اقدامات مکمل کرنے کے بعد ہی قرضہ ادا کیا جائے گا جس کے بعد ہی پاکستان بین الاقوامی بانڈ مارکیٹ سے قرضہ لے سکے گا۔پیشگی شرائط میں سٹیٹ بینک آف پاکستان ایکٹ میں تبدیلیاں، بجلی کی قیمت اور ٹیکسوں میں اضافہ اور اخراجات میں کمی کے زریعہ خسارہ کم کرنا شامل ہیں۔
انھوں نے کہاکہ سود کی شرح مجموعی معیشت کی عکاسی کرتی ہے۔جب شرح سود کم ہوتی ہے تو معیشت بڑھتی ہے اور جب شرح سود زیادہ ہوتی ہے تو معیشت سکڑ جاتی ہے۔سٹیٹ بینک کی پالیسیوں سے اشرافیہ کو کوئی فرق نہیں پڑے گا مگر عوام کی ازیت بڑھ جائے گی۔









