سی پیک 21

سی پیک ،اس کے راستے میں آنے والے علاقوں میں خشک سالی سے نمٹنے کیلئے تحقیق

لاہور(رپورٹںگ آن لائن)چین ،پاکستان اقتصادی راہداری اور اس کے راستے میں آنے والے علاقوں میں خشک سالی سے نمٹنے کے لئے ایک تحقیق کی گئی ہے ۔یہ تحقیق ”ایٹموسفیرک ریسرچ”جریدے میں شائع ہوئی ہے جس میں سی پیک کے راستے، کاشغر سے گوادر تک موسمیاتی خشک سالی کے زرعی خشک سالی میں منتقلی کے تعلقات کا جائزہ لیا گیا ہے۔

مطالعے میں یہ جانچ کی گئی ہے کہ کس طرح موسمیاتی خشک سالی سی پیک راہداری کے ساتھ ساتھ مٹی میں نمی کی کمی اور زرعی خشک سالی میں تبدیل ہوتی ہے۔ مصنفین کے مطابق یہ راہداری چین کے سنکیانگ کے شہر کاشغر سے شروع ہو کر پاکستان کے جنوب مغرب میں واقع بندرگاہ گوادر تک پھیلی ہوئی ہے۔

محققین کا کہنا ہے کہ خشک سالی ماحولیاتی نظام اور معاشرے کے لیے بڑے خطرات پیدا کرتی ہے اور یہ سمجھنا کہ موسمیاتی خشک سالی کس طرح زرعی خشک سالی میں بدلتی ہے موثر تدارکی حکمت عملیوں کی تیاری کے لیے نہایت اہم ہے۔ اس تحقیق میں 1981 سے 2022 تک کے اعداد و شمار استعمال کیے گئے اور خشک سالی کے پھیلا ئو کے عوامل کے تجزیے کے لیے انہینسیڈ کنورجنٹ کراس میپنگ کے ساتھ ساتھ نیٹ ورک ماڈلز اے این این اور ایف ایف این این کو قابل وضاحت مصنوعی ذہانت کی مدد سے استعمال کیا گیا ہے ۔

مطالعے کے مطابق موسمیاتی اور زرعی خشک سالی کے درمیان مضبوط تعلق موجود ہے تاہم مختلف علاقوں میں اس کے پھیلنے کے وقت میں فرق پایا گیا۔ ای سی سی ایم کی بنیاد پر تحقیق میں بتایا گیا کہ یہ دورانیہ شمالی اور جنوبی سنکیانگ اور مشرقی پاکستان میں 3 سے 4 ماہ جبکہ مشرقی سنکیانگ اور مغربی پاکستان میں 1 سے 2 ماہ رہا۔

تحقیق میں زیادہ سے زیادہ درج حرارت اور مٹی میں نمی کو خشک سالی کی منتقلی کے اہم عوامل قرار دیا گیا ہے۔اس تحقیق کی مالی معاونت چین کی نیشنل نیچرل سائنس فائونڈیشن، شینژن کی نیچرل سائنس فائونڈیشن اور ہائی اینڈ فارن ایکسپرٹس انٹروڈکشن پراجیکٹس نے کی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں