لاہور ہائی کورٹ 429

سیکرٹری ایکسائز عدالت کو مطمئن نہ کرسکے۔ ہائی کورٹ نے دوبارہ طلب کرلیا

تنویر سرور۔۔۔

لاہور ہائیکورٹ کے مسٹر جسٹس علی باقر نجفی کے روبرو ایک رٹ پٹیشن میں جمع کروائے جانے والے جواب کو غیر تسلی بخش قرار دیتے ہوئے عدالت نے کمرہ عدالت میں موجود صوبائی ایکسائز ٹیکسیشن اینڈ نارکوٹکس کنٹرول ڈیپارٹمنٹ پنجاب وقاص علی محمود کو دوبارہ طلب کرلیا ہے۔
سیکرٹری ایکسائز

گزشتہ تاریخ پیشی پر عدالت عالیہ نے ڈائیریکٹر موٹرز لاہور قمرالحسن سجاد کے تحریری جواب پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے صوبائی سیکرٹری کو ذاتی حیثیت میں طلب کیا تھا۔

سیکرٹری ایکسائز
عدالت کے روبرو صوبائی سیکرٹری نے بتایا کہ پورے پنجاب میں بائیومیٹرک نظام متعارف کروا دیا گیا ہے اور گاڑیوں کی پیپر لیس ٹرانزکشن کی جارہی ہے اور پر درخواست گزار نے عدالت کے روبرو بتایا کہ ملتان، بہاولپور، سرگودھا سمیت دیگر شہروں میں گاڑیوں کی پیپر لیس ٹرانسفر نہیں کی جارہی۔ایک ہی صوبے میں دو الگ الگ نظام کیسے رائج ہوسکتے ہیں جواب میں سیکرٹری ایکسائز نے ایکسکیوز پیش کیا کہ Gradually بائیومیٹرک نظام پر عمل درآمد کیا جارہا ہے۔
البتہ صوبائی سیکرٹری کا جواب عدالت کو مطمئن نہ کرسکا۔
صوبائی سیکرٹری ایکسائز نے عدالت کو تحریری طورپر آگاہ کیا کہ موٹر وہیکلز آرڈیننس 1965 کے سیکشن 27اور سیکشن 32 میں ترمیم کی منظوری صوبائی کابینہ نے دیدی ہے جس کی روشنی میں قانون میں ترمیم لائی جائیگی۔

عدالت نے سیکرٹری ایکسائز سے سپریم کورٹ کے احکامات پر عمل درآمد کو یقینی بناتے ہوئے ٹرانزکشن کے وقت گاڑیوں کی فزیکل انسپکشن اور گاڑیوں کی دستاویزات کی ویری فکیشن سمیت فارم ایف اور متعلقہ قانون میں ترمیم سے متعلق اپنی رپورٹ 15 مئی کو پیشن کرنے کا حکم جاری کرتے ہوئے سماعت ایک ماہ کے لیے ملتوی کردی ہے۔
شہبازاکمل جندران
عدالت عالیہ کے روبرو شہبازاکمل جندران نے رٹ دائر کی تھی کہ سائل نے ایک استعمال شدہ گاڑی سوزوکی کلٹس خریدی ہے لیکن موٹر وہیکلز آرڈیننس 1965 کے سیکشن 32 کی کلاز ون کے تحت موٹر برانچ لاہور گاڑی کے کاغذات چیک کرنے کو تیار نہیں ہے۔جبکہ مذکورہ قانون کے سیکشن 27 کے تحت گاڑی کے کوائف بھی چیک نہیں کئے جارہے۔

حالانکہ سپریم کورٹ
PLD 2020 SC 299
میں قرار دے چکی ہے کہ رجسٹریشن سے پہلے اور رجسٹریشن کے بعد بھی گاڑی کے کوائف کی چیکنک لازمی یے۔ اپنے فیصلے میں سپریم کورٹ نے قرار دیا تھا کہ چاروں صوبوں اور اسلام آباد کے ایکسائز ڈیپارٹمنٹس اس فیصلے پر عمل۔درآمد کو یقینی بنائیں۔

کمرہ عدالت میں ڈائیریکٹر موٹرز لاہور قمر الحسن سجاد اور محکمے کے دیگر مکازمین بھی حاضر رہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں