87

سیکرٹری۔ڈی جی۔ ADR اور قانون کی خلاف ورزی کا نوٹس لیں۔پنجاب انفارمیشن کمیشن۔

شہبازاکمل جندران۔۔

پنجاب انفارمیشن کمیشن کے فل کمیشن نے صوبائی سیکرٹری ایکسائز ٹیکسیشن اینڈ نارکوٹکس کنٹرول ڈیپارٹمنٹ پنجاب مسعود مختار اور ڈائیریکٹر جنرل محمد علی کو ہدایات جاری کی ہیں کہ وہ ADR جیسی اصطلاح کو دیکھیں تاکہ اس کی آڑ میں رول 47 اے کی خلاف ورزی نہ ہوسکے۔

شہری شہبازاکمل جندران نے رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ کے تحت ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب سے ایسی گاڑیوں کی تفصیلات مانگی تھیں جن میں گاڑی بیچنے والے کے نشان انگوٹھا کی تصدیق نہ ہو پائی تھی۔تاہم ڈیپارٹمنٹ نے صوبائی موٹر وہیکلز رولز 1969 کے رول 47 اے کی آڑ میں نمائندے کا تقرر کرتے ہوئے ایسی گاڑیوں کی ملکیت تبدیل کر ڈالی تھی۔

تاہم اس پر ڈائیریکٹر ریجن سی لاہور کے نمائندہ ای ٹی او سفیر عباس اور ڈائیریکٹر جنرل ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن پنجاب کے نمائندہ ای ٹی او طارق پرویز فریدی نے اس معاملے کو پالیسی میٹر قرار دیا اور کمیشن پر زور دیا کہ رول 47 اے ایسے کیسوں میں نمائندہ مقرر کرنے کی اجازت دیتا یے۔

اس پر کمیشن نے دونوں پبلک انفارمیشن افسروں کو کہا کہ وہ سرٹیفکیٹ جمع کروائیں کہ ADR کی آڑ میں قانون کی خلاف ورزی نہیں کی گئی۔ اور نشان انگوٹھا کی تصدیق نہ ہونے پر قانون نمائندہ مقرر کرنے کی اجازت دیتا ہے۔جس پر دونوں افسروں نے کمیشن سے استدعا کی کہ ان سے “سچ کا سرٹیفکیٹ ” نہ لیا جائے کیونکہ بطور PIO ان کی ذمہ داری ہے کہ وصول کردہ معلومات دوسرے فریق کو پیش کر دیں۔

اس پرفل کمیشن نے سیکرٹری و ڈی جی ایکسائز کو ADR کا نوٹس لینے کی ہدایات کر دی ہیں تاکہ اس اتھارٹی کے ذریعے قانون کا غلط استعمال نہ ہوسکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں