سینیٹ اجلاس 167

سینیٹ اجلاس ، حکومت نے مسنگ پرسنز سے متعلق بل پیش نہ ہونے پر سوالات اٹھادیئے

اسلام آباد(رپورٹنگ آن لائن)سینیٹ اجلاس میں حکومت نے جبری گمشدگیوں کو جرم قرار دینے سے متعلق حکومتی بل سینیٹ میں پیش نہ ہونے پر سوالات اٹھادیئے۔

وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق شیریں مزاری نے کہا کہ مسنگ پرسنز سے متعلق قانون اسمبلی نے پاس کر دیا ہے میں بھی یہ سوال بڑے عرصے پوچھ رہی ہوں کہ کیوں نہیں وہ سینیٹ میں پیش ہورہا ،جمہوریت میں جبری گمشدگیاں ناقابل قبول ہیں ، کافی مہینے گزر گئے ہیں یہ بل کیوں نہیں پیش ہو رہا ، بل مسنگ ہو گیا ہے جبکہ چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ حکومتی بل حکومت لاسکتی ہے میں نہیں لاسکتا وزارت پارلیمانی امور نے لانا ہے ، جو حکومت کے قانون ہیں وہ حکومت نے پیش کرنے ہیں جب تک وزارت پارلیمانی امور بل نہیں دے گی تومیں نہیں لا سکتا ۔

وزارت آبی وسائل نے تحریری جواب میں ایوان کو آگاہ کیا کہ بھارت مغربی دریاﺅں پر دریا کے بہاﺅ پر پن بجلی گھروں ،ڈیموں کے کئی منصوبے تعمیر کر رہا ہے،ان بجلی گھروں کے ڈیزائن کی اکثریت سندھ طاس معاہدے 1960کی جانب سے وضع کردہ ڈیزائن کی خلاف ورزی میں ہے۔جمعہ کو سینیٹ کا اجلاس چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کی صدارت میں ہوا ، وقفہ سوالات کے دوران سینیٹرمحسن عزیزکے سوال کے جواب میں وزیر مملکت بتائے پارلیمانی امور علی محمد خان نے ایوان کو بتایا کہ نیٹ میٹرنگ کوئی آج کا کنسپٹ تو ہے نہیں،2018تک صرف 50میگا واٹ کی نیٹ میٹرنگ ہوئی تھی ، اس وقت 300میگا واٹ کو ٹچ کر رہے ہیں، اس وقت تقریبا 12918نیٹ میٹرنگ لائسنس جاری کر چکے ہیں، سینیٹر سیمی ایزدی کے سوال کے جواب میں وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق شیریں مزاری نے ایوان کو بتایا کہ لیگل ایڈ اینڈ جسٹس اتھارٹی بن گئی ہے، رولز بن کر فنانس منسٹری میں موجود ہیں، بیوروکریسی کی وجہ سے ہر چیزآہستہ ہو جاتی ہے، جو بھی لیگل ایڈ مانگتا ہے اسے لیگل ایڈ دے رہے ہیں ، تین بورڈ آف گورنرز کی میٹنگ بھی ہوچکی ہیں ،

آگاہی مہم ہم چلا رہے ہیں، ہم لوگوں کو فری لیگل ایڈ دے رہے ہیں، ایک ضمنی سوال کے جواب میں شیریں مزاری نے کہا کہ مسنگ پرسنز سے متعلق قانون اسمبلی نے پاس کر دیا ہے میں بھی یہ سوال بڑے عرصے پوچھ رہی ہوں کہ کیوں نہیں وہ سینیٹ میں پیش ہورہا تاکہ جلد پاس ہو،جمہوریت میں جبری گمشدگیاں ناقابل قبول ہیں ،شیریں مزاری نے چیئرمین سینیٹ سے کہا کہ آپ سے میں نے اس دن بھی بات کی تھی کہ بل جلدی پیش کردیں جس پر چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ حکومتی بل حکومت لاسکتی ہے میں نہیں لاسکتا وزارت پارلیمانی امور نے لانا ہے ، جو حکومت کے قانون ہیں وہ حکومت نے پیش کرنے ہیں جب تک وزارت پارلیمانی امور بل نہیں دے گی تومیں نہیں لا سکتا، شیریں مزاری نے کہا کہ کافی مہینے گزر گئے ہیں یہ بل کیوں نہیں پیش ہو رہا ،

بل مسنگ ہو گیا ہے ، سینیٹر سیمی ایزدی کے سوال کے تحریری جواب میں وزارت آبی وسائل نے ایوان کو بتایا کہ بھارت کو اجازت ہے کہ مغربی دریاﺅں(سندھ، جہلم اور چناب)پر محدود حد تک پانی ذخیرہ کرنے اور دریا کے بہا ﺅپر ہائیڈروگھر بنائے جو سندھ طاس 1960کے متعلقہ دفعات کے تحت وضع کردہ محد ود ڈیزائن طریقہ کار کے مطابق ہو، بھارت پابند ہے کہ مجوزہ منصوبوں کے بارے میں تفصیلی معلومات اور ڈیزائن کا ڈیٹا فراہم کرے، موجودہ وقت میں بھارت مغربی دریاﺅں پر دریا کے بہاﺅ پر پن بجلی گھروں ،ڈیموں کے کئی منصوبے تعمیر کر رہا ہے،ان بجلی گھروں کے ڈیزائن کی اکثریت سندھ طاس معاہدے 1960 کی جانب سے وضع کردہ ڈیزائن کی خلاف ورزی میں ہے۔ وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور علی محمد خان نے ایوان کو بتایا کہ جنگ کبھی بھی نہیں ہونی چاہیئے لیکن ماہرین کہتے ہیں دنیا میں اگلی جنگیں پانی پرہوں گی، مہند ڈیم عمران خان نے شروع کیا ہے، سینیٹر مشتاق احمد کے بجلی کی قیمتوں میںاضافے سے متعلق سوال کے تحریری جواب میں وزارت توانائی نے ایوان کو بتایا کہ نیپرا نے سالانہ طور پر نئی بنیاد وضع کی ہے جو مالی سال 2020 کے لیے 3.34روپے فی یونٹ مقرر کی تھی اور حکومت نے فروری 2021میں صرف 1.95روپے فی یونٹ ٹیرف اضافے کا نوٹیفیکیشن کیا تھا، بقیہ ٹیرف پر حکومت نے 1.39روپے فی یونٹ سبسڈی فراہم کی اور صارفین پر بوجھ نہیں ڈالا،

اب اس سال کے لیے سبسڈی کم کرنے کے لیے یہ اضافہ کیا گیا ہے ، اس ٹیرف کے اضافے کے بعد بھی حکومت نے بجلی کے صارفین کے لیے 168ارب کی سبسڈی دینی ہے، یہ اضافہ لائف لائن صارفین اور کم آمدن والے گھرانوں کے لیے نہیں کیا گیا،ٹیرف میں اضافے کا مقصد وفاقی حکومت کے لیے ریونیو میں اضافے کے لیے نہیں ہے اور یہ تمام ڈسکوز کے لیے مقرر کردہ مجموعی ریونیو کی ضرورت کے اندر ہے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں