سراج الحق 165

سید علی شاہ گیلانی کی شہادت سے عالم اسلام عظیم مرد مجاہد سے محروم ہو گئی،سراج الحق

اسلام آباد(رپورٹنگ آن لائن) جماعت اسلامی پاکستان کے امیر سراج الحق نے کہا ہے کہ سید علی شاہ گیلانی کی شہادت سے عالم اسلام عظیم مرد مجاہد سے محروم ہو گئی،’سب سے بڑے پاکستانی تھے ہندوستانی کی سنگینوں کے سائے میں ہم پاکستانی ہیں پاکستان ہمارا ہے‘ نعرہ کے خالق کی ساری زندگی ہندوستانی کے عقوبت خانوں میں گزری لیکن کبھی بھی لغزش نہ آئی ، کشمیری میدان کارِزار میں سالہاسال سے کھڑے ہیں، ان کی ہمتیں جوان اور حوصلے پہاڑوں سے بھی بلند تر ہیں۔

سید علی گیلانی حریت پسندوں کے سرخیل تھے۔ وزیراعظم عمران خان کشمیرپر تھرڈ آپشن کا حوالہ دیتے ہیں جو امریکہ کا دیا ہوا آئیڈیا ہے، سابق ڈکٹیٹر پرویز مشرف بھی اسی طرح کی ہی باتیں کرتے تھے۔ واضح کرنا چاہتا ہوں کہ کشمیرپر کسی سودے بازی کی اجازت نہیں دیں گے۔ پاکستانی قوم کشمیری بھائیوں کے ساتھ کھڑی ہے۔ کشمیر کاز سے بے وفائی کرنے والوں کا احتساب کریں گے۔جب تک ہماری گردنوں پر سر ہیں، کشمیر کی آزادی کے لیے جدوجہد جاری رکھیں گے، کشمیری قائدین کو پوری دنیا تک رسائی دی جائے، کشمیرپر نائب وزیرخارجہ کی تعیناتی ہونی چاہیے۔ پوری دنیا میں پاکستان کے سفارت خانوں میں سپیشل کشمیر ڈیسک قائم کیے جائیں۔ آزادکشمیر حکومت کو ریاست کی نمائندہ حکومت تسلیم کرتے ہوئے بین الاقوامی سطح پر کردار ادا کرنے کا موقع فراہم کیا جائے ، سید علی گیلانی کی سوانح حیات کو نصاب تعلیم کا حصہ بنایا جائے۔

ملکی سالمیت کشمیر کی آزادی سے وابستہ ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں ہونے والے مظالم پر اقوام متحدہ اور مغربی طاقتوں کی خاموشی پاکستانیوں سمیت پوری امت مسلمہ کے لیے تکلیف دہ ہے۔ ان خیالات کا اظہار انھوں نے اسلام آباد میں تحریک حریت کشمیر کے عظیم رہنما سید علی گیلانی کی یاد میں منعقدہ تعزیتی ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ تعزیتی ریفرنس سے مرکزی نائب امرا لیاقت بلوچ، میاں اسلم، سابق سفیر عبدالباسط، امیر جماعت اسلامی آزاد کشمیر ڈاکٹر خالد محمود،سینیٹر مشتاق ،کنونیئر تحرک حریت جموں وکشمیر غلام محمد صفی،سمیت دیگر قائدین نے خطاب کیا ،تعزیتی ریفرنس میں مختلف طبقہ ہائے فکر سے تعلق رکھنے والے افراد کی بڑی تعداد شریک تھی۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے سراج الحق نے کہا کہ کشمیر میں گزشتہ سات دہائیوں سے زیادہ عرصے سے آگ اور خون کا کھیل جاری ہے۔ قابض افواج مقبوضہ وادی میں کشمیری نسل کشی میں مصروف ہیں۔ مودی حکومت نے 5اگست 2019ءکے اقدام کے بعد کشمیریوں پرعرصہ حیات تنگ کر دیا ہے۔ کشمیر دنیا کی سب سے بڑی جیل میں تبدیل ہو گیا ہے۔

تمام کشمیری قیادت قید و بند کی صعوبتیں جھیل رہی ہے، نظربندی اور جیلوں میںان کی شہادتیں ہو رہی ہیں۔ کشمیری نوجوانوں کی بڑی تعداد لاپتا ہے، ماﺅں، بہنوں اور بیٹیوں کے ساتھ عصمت دری کے واقعات میں اضافہ ہورہا ہے۔ ایک خاص منصوبے کے تحت کشمیر میں مسلمان اکثریت کو اقلیت میں بدلا جا رہا ہے، مگر پاکستانی حکومت خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔ وزیراعظم اقوام متحدہ میں تقریر، چند منٹ کی خاموشی اور ایک دن کے احتجاج کا اعلان کرنے کے بعد کشمیر کو مکمل فراموش کر چکے ہیں۔ کشمیری عوام اپنے آپ کو لاوارث محسوس کر رہے ہیں۔

ہمارے حکمرانوں کو یہ ادراک ہونا چاہیے کہ کشمیر پاکستان کے لیے زندگی اور موت کا مسئلہ ہے۔ قائداعظم نے کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قرار دیا، مگر ہم سات دہائیاں گزرنے کے باوجود شہ رگ کے بغیر رہ رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ عالمی برادری بھی مقبوضہ وادی میں انسانیت کے خلاف مظالم پر خاموش تماشائی کا کردار ادا کر رہی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اقوام متحدہ اور مغربی طاقتوں کو کبھی بھی مسلمانوں کے خلاف ہونے والے مظالم کا ادراک نہیں ہوا، بلکہ ان کی ساری توانائیاں دین اسلام کے ماننے والوں پر عرصہ حیات تنگ کرنے میں صرف ہو رہی ہیں۔

سراج الحق نے اس موقع پر پاکستان کی کمزور خارجہ پالیسی کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور حکمرانوں کو مشورہ دیا کہ وہ یاد رکھیں کہ پاکستانی قوم اور تاریخ کبھی بھی ان لوگوں کو معاف نہیں کرے گی جنھوں نے کشمیرکاز سے بے وفائی کی۔ انھوں نے کہا کہ حکومت نے مودی کے مقبوضہ کشمیر کی ریاستی حیثیت کو ختم کرنے کے اقدام کے بعد کوئی مو¿ثر حکمت عملی تشکیل نہیں دی۔ ہم نے بار بار یہ مطالبہ کیا کہ کشمیر پر نیشنل ایکشن پلان کی ضرورت ہے اور اس کے لیے تمام سٹیک ہولڈرز کو مل بیٹھ کر پالیسی تشکیل دینی چاہیے، مگر حکومت ٹس سے مس نہ ہوئی۔ حکومت عالمی سطح پر کشمیر کا کیس لڑنے میں مکمل ناکام رہی، اس سلسلے میں او آئی سی کے پلیٹ فارم کو بھی مو¿ثر طریقے سے استعمال نہیں کیا گیا۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی آزادکشمیر ڈاکٹر خالد محمود خان نے کہاکہ کشمیری آزادی کے لیے 200سال سے جدوجہد کررہے ہیں وحدت کشمیر اور حق خودارادیت پر کوئی کمپرومائز نہیں کریں گے ،سید علی گیلانی کی شہادت اور جسد خاکی کی بے حرمتی پر حکومت پاکستان اقوام متحدہ،اوآئی سی ،یورپی یونین اور انسانی حقوق کے اداروں کو متحرک کرے ہندوستان سید علی گیلانی کی میت سے خوفزدہ تھا کشمیر کا بچہ بچہ گیلانی ہے اور جب تک ہندوستان کا ایک بھی فوجی کشمیر میں موجود ہے ہم اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے ،انہوں نے کہاکہ بین الاقوامی دباﺅ کے نتیجے میں حکومت پاکستان گلگت بلتستان اور آزادکشمیر کے سٹیٹس تبدیل نہ کرے اس سے ہندوستان کے 5اگست 2019ءکے اقدامات کو تقویت ملے گی اور بین الاقوامی سطح پر پاکستان کا دیرینہ موقف کمزور ہو گا اس موقع پر مقررین نے خطاب کرتے ہوئے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی شدید خلاف ورزیوں کا تذکرہ کیا اور اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا کہ کشمیریوں کو حق خودارادیت دلانے میں کردار ادا کرے۔ کشمیریوں کو ان کے حقوق دلائے بغیر خطے میں امن کے قیام کا خواب پورا نہیں ہو سکتا۔

کشمیر تین ایٹمی طاقتوں کے درمیان گھرا ہوا علاقہ ہے، عالمی برادری کو اس کا ادراک ہونا چاہیے۔امیر جماعت اور مقررین نے سید علی گیلانی کی کشمیر کی آزادی کے لیے طویل جدوجہد کو زبردست الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا۔

ان کی میت کی بے حرمتی کی شدید الفاظ میں مذمت کی اورحکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اس ایشو کو عالمی سطح پر اٹھائے۔ انھوں نے کہا کہ سید علی گیلانی نے کشمیریوں کے دلوں و دماغ میں آزادی کی جو شمع جلائی ہے وہ کبھی ماند نہیں پڑے گی۔ مقبوضہ کشمیر ضرور ایک روز بھارتی تسلط سے آزاد ہو گا اور پاکستان کا حصہ بنے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں