سپریم کورٹ 50

سپریم کورٹ نے بیٹے کو مبینہ زہر دینے کے مقدمے میں والد کو بری کر دیا

اسلام آباد(رپورٹنگ آن لائن) سپریم کورٹ نے مبینہ طور پر اپنے کمسن بیٹے کو زہر دے کر قتل کرنے کے الزام میں سزائے موت پانے والے ملزم کو بری کرتے ہوئے ہائیکورٹ اور ٹرائل کورٹ کے فیصلے کالعدم قرار دے دیے۔

عدالتِ عظمیٰ نے ملزم کو فوری طور پر رہا کرنے کا حکم جاری کر دیا، اس حوالے سے جسٹس اشتیاق ابراہیم نے تحریری فیصلہ جاری کر دیا ہے۔

تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ایک باپ کا اپنے ہی کمسن بیٹے کو زہر دینا انسانی فطرت اور رویے کے خلاف ہے، جبکہ استغاثہ یہ ثابت کرنے میں ناکام رہا کہ باپ اپنے بیٹے کو قتل کیوں کرنا چاہتا تھا۔

عدالت نے قرار دیا کہ گھر میں کپاس کی فصل کے لیے کیڑے مار ادویات موجود تھیں اور امکان ہے کہ بچہ خود بھی وہ چیز پی سکتا تھا، میڈیکل رپورٹ کے مطابق چار سالہ بچہ زہریلی اور پینے والی چیز میں فرق نہیں کر سکتا۔

فیصلے میں مزید کہا گیا کہ چشم دید گواہوں کے بیانات تضادات اور غیر فطری نکات سے بھرپور ہیں، گواہوں نے موقع پر موجود ہونے کی کوئی ٹھوس وجہ بیان نہیں کی اور انہیں اتفاقیہ گواہ قرار دیا گیا۔

عدالت نے یہ بھی نشاندہی کی کہ بچے کے لباس کے رنگ سے متعلق ڈاکٹر اور گواہوں کے بیانات میں سنگین تضاد پایا گیا، جبکہ گواہوں کا کمرے کی تلاشی نہ لینا یا برتن چیک نہ کرنا ان کی موجودگی کو مشکوک بناتا ہے۔

سپریم کورٹ کے مطابق ایف آئی آر کے اندراج میں غیر واضح تاخیر بھی کیس کی صداقت پر سوالات اٹھاتی ہے، عدالت نے کہا کہ فوجداری قانون کے مطابق شک کا ایک پہلو بھی ملزم کو بریت کا حق دیتا ہے۔

واضح رہے کہ اگست 2019 میں سکھر میں چار سالہ مدثر عرف میٹھو کی مبینہ زہر خورانی سے موت واقع ہوئی تھی، بچے کے والد سلطان عرف ببو جتوئی پر الزام تھا کہ اس نے گواہوں کی موجودگی میں بیٹے کو گلاس میں زہریلی چیز پلائی۔

اس واقعے کے بعد بچے کے ماموں نے مدعی بن کر تھانہ سنگی میں مقدمہ درج کرایا تھا، بعد ازاں ٹرائل کورٹ نے سلطان جتوئی کو سزائے موت سنائی تھی، جس کی توثیق ہائیکورٹ نے بھی کر دی تھی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں