اسلام آباد (رپورٹنگ آن لائن)سپریم کورٹ نے جعلی بنک اکاونٹ کیس کے مرکزی ملزم انور مجید کی درخواست ضمانت پر نیب کو نوٹس جاری کرتے ہوئے دو ستمبر تک جواب طلب کر لیا۔
جسٹس مشیر عالم نے انور مجید کے وکیل سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا آپ ضمانت نہیں مانگ رہے بلکہ ملزم کو باہر بھیجنے کی اجازت مانگ رہے ہیں وکیل نے جواب دیا جی بلکل زندگی کی ضمانت آئین دیتا ہے اپنی پسند کے مطابق علاج کرانا ان کا حق ہے۔ کیس کی سماعت جسٹس مشیر عالم کی سربراہی میں دورکنی بنچ نے کی۔ انور مجید کی وکیل منیر اے ملک نے کراچی رجسٹری سے وڈیو لنک پر کے ذریعے دلائل دیئے۔
دوران سماعت بنچ کے سربراہ جسٹس مشیر عالم نے وکیل منیر اے ملک سے کہا آپ انور مجید کی ضمانت نہیں مانگ رہے بلکہ انہیں باہر جانے کی اجازت مانگ رہے ہیں۔
وکیل منیر اے ملک نے جواب دیا جی بلکل زندگی کی ضمانت آئین دیتا ہے اپنی پسند کے مطابق علاج کرانا ملزم کا حق ہے۔ جسٹس مشیر عالم نے استفسار کیا ملزم کی واپسی کی کیا ضمانت ہے منیر اے ملک نے کہا عدالت اپنی تسلی کے مطابق جو ضمانت چاہے لے لے۔
جسٹس قاضی امین نے دعا دیتے ہوئے کہا اللہ انور مجید کو صحت دے ساتھ میں ریمارکس دیے بدقسمتی سے بیرون ملک علاج کے حوالے سے ماضی کا تجربہ اچھا نہیں رہا۔ وکیل منیر اے ملک نے کہا کہ سندھ ہائی کورٹ نے کہا بیرون ملک علاج کی اجازت دینے کا قانون میں تصور نہیں، انور مجید کا آپریشن بیرون ملک ہی ہو سکتا ہے۔
جو سرجری انور مجید کی ہونی ہے وہ پاکستان میں زیادہ کامیاب نہیں۔ عدالت نے نیب کو نوٹس جاری کرتے ہوئے دو ستمبر تک جواب طلب کر لیا کیس کی مزید سماعت دو ستمبر تک ملتوی کر دی گئی۔









