اسلام آباد (رپورٹنگ آن لائن) سپریم کورٹ نے باپ کے قتل کے مجرم غلام مصطفیٰ کی سزائے موت کے خلاف اپیل خارج کرتے ہوئے پھانسی کی سزا برقرار رکھنے کا حکم دے دیا۔
جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ نے کیس کا تحریری فیصلہ جاری کیا، جس میں کہا گیا ہے کہ مجرم کسی رعایت کا مستحق نہیں۔
عدالت کے مطابق مجرم غلام مصطفیٰ نے جولائی 2020 میں جائیداد کے تنازع پر اپنے 70 سالہ والد غلام محمد کو سوتے ہوئے ٹوکے کے وار سے بے دردی سے قتل کیا، فیصلے میں بتایا گیا کہ ملزم نے مداخلت کرنے پر اپنی سوتیلی ماں اور بہن بھائیوں کو بھی شدید زخمی کیا۔
سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ 4 زخمی عینی شاہدین کی گواہیاں مجرم کو سزا دلوانے کیلئے کافی ہیں، جبکہ میڈیکل شواہد اور پوسٹ مارٹم رپورٹ بھی ان بیانات کی مکمل تائید کرتی ہیں۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ نہتے اور سوئے ہوئے والد پر حملہ جرم کی سنگینی کو مزید بڑھاتا ہے اور جائیداد کے لئے اپنے ہی خاندان کا خون بہانے والا کسی رعایت کا حقدار نہیں ہو سکتا۔
واضح رہے کہ اس سے قبل لاہور ہائیکورٹ کے ملتان بنچ نے بھی مجرم کی سزائے موت برقرار رکھی تھی، مدعی کی جانب سے وکیل فہیم اختر گل سپریم کورٹ میں پیش ہوئے۔








