کراچی(رپورٹنگ آن لائن ) نیشنل بزنس گروپ پاکستان کے چیئرمین، پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچولز فور م وآل کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدر اور سابق صوبائی وزیر میاں زاہد حسین نے کہا ہے کہ ملک میں سٹیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں پر تشویش ہے جس سے تعمیراتی شعبہ متاثر ہو رہا ہے۔ بجٹ اقدامات پر عمل درآمد سے سٹیل کی قیمتیں کافی بڑھ گئی ہیں اور چلتا شعبہ بحران کا شکار ہو گیا ہے جس کے مضر اثرات عوام پر پڑیں گے اس لیے اس سے نمٹنے کے لئے اقدامات کئے جائیں۔ میاں زاہد حسین سے سٹیل مل مالکان نے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ سرئیے کی قیمت ڈیڑھ لاکھ روپے ٹن سے بڑھ گئی ہے جس سے سرکاری اور نجی شعبہ میں منصوبوں کی لاگت میں زبردست اضافہ ہوا ہے اور کئی پراجیکٹس پر کام بند ہو گیا ہے جس سے بے روزگاری پھیل رہی ہے۔
اسٹیل ملز مالکان نے کہا کہ بجٹ میں سابقہ فاٹا اور پاٹا میں قائم سٹیل یونٹس کو فیڈرل ایکسائیز ڈیوٹی اور سیلز ٹیکس کی مد میں سترہ فیصد چھوٹ دی گئی ہے جس سے انکی کاروباری لاگت ملک کے دیگر حصوں میں موجود سینکڑوں صنعتوں جس میں لاکھوں افراد کام کرتے ہیں اورحکومت کو اربوں روپے کا ٹیکس بھی ملتا ہے سے ستائیس ہزار روپے تک کم ہو جائے گی جس سے مسابقت ناممکن اور ایک نیا بحران کھڑا ہو گیا ہے۔ جو صنعتیں ملکی طلب کا صرف چار فیصد پورا کر رہی ہوں انھیں غیر ضروری مراعات دے کر ان صنعتوں کو جو چھیانوے فیصد ضروریات پوری کر رہی ہوں خطرات سے دوچار کرنا حیران کن ہے۔ میاں زاہد حسین نے کہا کہ سٹیل کو فاسٹ موونگ کنزیومر گڈز ڈکلیر کیا جائے لہذا سیکشن 113 کے تحت کم ازکم ٹیکس کو 0.25 فیصد کیا جائے اور یہ کہ ٹرن اوور ٹیکس جو کہ 1.5 فیصد ہے ناجائز ہے۔ سٹیل انڈسٹری پر سیلز ٹیکس کے سیکشن 8بی کو لاگو نہ کیا جائے اور سکیشن 236 ایچ کے تحت ہول سیلر و ریٹیلر سے ودھولڈنگ ٹیکس بھی ختم کیا جائے کیونکہ مینوفیکچررز پرچون فروشوں سے ٹیکس جمع نہیں کر سکتے نیز ریٹیلرز پر جو ود ہولڈنگ ٹیکس عائد کیا گیا ہے وہ انکے منافع سے زیادہ ہے جو ناقابل عمل ہے۔
میاں زاہد حسین نے امید ظاہر کی کہ حکومت اسٹیل ری رولنگ انڈسٹری کی تجاویز پر غور کرے گی تاکہ سٹیل انڈسٹری کا مستقبل بچایا جا سکے اور کنسٹرکشن انڈسٹری کے کام میں رکاوٹ پیدا نہ ہو۔









