کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی کا 55 واں سنڈیکیٹ کا اجلاس ہوا جس کی صدارت
وائس چانسلر کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی پروفیسر خالد مسعود گوندل نےکی جبکہ ڈاکٹر ریاست علی نے سیکرٹری کے فرائض سر انجام دئیے۔

اس موقع پر جسٹس شہرام سرورچوہدری، سپیشل سیکرٹری ہیلتھ سلوت سعید، ممبر پبلک سروس کمیشن نیر اقبال،وائس چانسلر یو ای ٹی منصور سرور، پارلیمانی سیکرٹری عمر آفتاب احمد ڈھلوں، ایچ ای سی اور فنانس کے نمائندگان سمیت ڈینز اور یونیورسٹی سے ملحقہ ہسپتالوں کے ایم ایسز موجود تھے۔

وائس چانسلر کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی پروفیسر خالد مسعود گوندل نے کوویڈ 19 کے سلسلے میں یونیورسٹی سے ملحقہ سات ہسپتالوں کی خدمات پر روشنی ڈالی اور کورونا وبا کے دوران شہید ہونے والے ہیلتھ کیئر پروفیشنلز کے لئے دعائے مغفرت کروائی۔

اجلاس میں تعمیراتی منصوبوں، فیکلٹی کی ایکسٹنشن اور امتحانات کے قوائد زیر بحث آئے۔یونیورسٹی کے ترقیاتی منصوبوں میں گرلز ہاسٹل کی تعمیر اور فنڈز کی منظوری دی گئی جبکہ سنڈیکیٹ نے شعبہ ٹیلی میڈیسن کی انچارج اور چئیرپرسن شعبہ میڈیسن پروفیسر بلقیس شبیر اور دیگر فیکلٹی کی کارکردگی کو سراہا۔

وائس چانسلر کے ای ایم یو نے ممبران کو بتایا کہ گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور کی ہدایت پر قائم شعبہ ٹیلی میڈیسن نے دس ہزار سے زائد مریضوں کو گھر بیٹھے خدمات فراہم کیں اور عید کی چھٹیوں کے دوران بھی ٹیلی سروسز کا سلسلہ جاری رہے گا۔

نمائندہ ایچ ای سی وائس چانسلر محترمہ بینظیر بھٹو شہید یونیورسٹی پروفیسر تنویر خالق نے حالیہ گوویڈ میں کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی کی خدمات کو سراہا۔
اجلاس کے بعد ممبران سنڈیکیٹ نے ٹیلی میڈیسن شعبے کا دورہ بھی کیا
وائس چانسلر یو ای ٹی پروفیسر منصور سرور نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ٹیلی میڈیسن کے ذریعے نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر میں گھر بیٹھے لوگوں کو صحت کی سروسز اور مفت طبی مشورے کی فراہمی ممکن ہوئی۔
اس موقع پر پرو وائس چانسلر پروفیسر اعجاز حسین، ڈین پروفیسر
رانا دل آویز ندیم، چیئرپرسن شعبہ میڈیسن پروفیسر بلقیس شبیر، پروفیسر ہارون حامد، پروفیسر نقشب چوہدری، اور پروفیسر ابرار اشرف علی نے شرکت کی۔









