کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی 236

سنڈیکیٹ ممبران نے کوویڈ 19 میں کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی کی خدمات کو سراہا

کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی کا 55 واں سنڈیکیٹ کا اجلاس ہوا جس کی صدارت
وائس چانسلر کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی پروفیسر خالد مسعود گوندل نےکی جبکہ ڈاکٹر ریاست علی نے سیکرٹری کے فرائض سر انجام دئیے۔
 کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی
اس موقع پر جسٹس شہرام سرورچوہدری، سپیشل سیکرٹری ہیلتھ سلوت سعید، ممبر پبلک سروس کمیشن نیر اقبال،وائس چانسلر یو ای ٹی منصور سرور، پارلیمانی سیکرٹری عمر آفتاب احمد ڈھلوں، ایچ ای سی اور فنانس کے نمائندگان سمیت ڈینز اور یونیورسٹی سے ملحقہ ہسپتالوں کے ایم ایسز موجود تھے۔

 کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی
وائس چانسلر کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی پروفیسر خالد مسعود گوندل نے کوویڈ 19 کے سلسلے میں یونیورسٹی سے ملحقہ سات ہسپتالوں کی خدمات پر روشنی ڈالی اور کورونا وبا کے دوران شہید ہونے والے ہیلتھ کیئر پروفیشنلز کے لئے دعائے مغفرت کروائی۔
 کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی

اجلاس میں تعمیراتی منصوبوں، فیکلٹی کی ایکسٹنشن اور امتحانات کے قوائد زیر بحث آئے۔یونیورسٹی کے ترقیاتی منصوبوں میں گرلز ہاسٹل کی تعمیر اور فنڈز کی منظوری دی گئی جبکہ سنڈیکیٹ نے شعبہ ٹیلی میڈیسن کی انچارج اور چئیرپرسن شعبہ میڈیسن پروفیسر بلقیس شبیر اور دیگر فیکلٹی کی کارکردگی کو سراہا۔
 کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی

وائس چانسلر کے ای ایم یو نے ممبران کو بتایا کہ گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور کی ہدایت پر قائم شعبہ ٹیلی میڈیسن نے دس ہزار سے زائد مریضوں کو گھر بیٹھے خدمات فراہم کیں اور عید کی چھٹیوں کے دوران بھی ٹیلی سروسز کا سلسلہ جاری رہے گا۔
 کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی
نمائندہ ایچ ای سی وائس چانسلر محترمہ بینظیر بھٹو شہید یونیورسٹی پروفیسر تنویر خالق نے حالیہ گوویڈ میں کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی کی خدمات کو سراہا۔

اجلاس کے بعد ممبران سنڈیکیٹ نے ٹیلی میڈیسن شعبے کا دورہ بھی کیا
وائس چانسلر یو ای ٹی پروفیسر منصور سرور نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ٹیلی میڈیسن کے ذریعے نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر میں گھر بیٹھے لوگوں کو صحت کی سروسز اور مفت طبی مشورے کی فراہمی ممکن ہوئی۔

اس موقع پر پرو وائس چانسلر پروفیسر اعجاز حسین، ڈین پروفیسر
رانا دل آویز ندیم، چیئرپرسن شعبہ میڈیسن پروفیسر بلقیس شبیر، پروفیسر ہارون حامد، پروفیسر نقشب چوہدری، اور پروفیسر ابرار اشرف علی نے شرکت کی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں