سندھ ہائیکورٹ 33

سندھ ہائی کورٹ نے گلشن اقبال میں اراضی کی ریگولیرائزیشن کے خلاف دو درخواستیں مسترد کردیں

کراچی (رپورٹنگ آن لائن)سندھ ہائی کورٹ نے گلشن اقبال میں اراضی کی ریگولیرائزیشن کے خلاف دو درخواستیں ناقابل سماعت قرار دیتے ہوئے مسترد کردی ہیں ۔

سندھ ہائی کورٹ میں گلشن اقبال میں اراضی کی ریگولیرائزیشن کے خلاف مختلف درخواستوں کی سماعت ہوئی ۔وکیل درخواست گزار نے موقف اختیار کیا کہ کے ڈی اے نے ماسٹر پلان کے تحت اراضی کو پیٹرول پمپ کے لئے مختص کیا تھا۔اراضی پر کثیر المنزلہ عمارت کی اجازت غیر قانونی ہے۔اراضی کی الاٹمنٹ 1963 میں کے ڈی اے اسکیم سے قبل ہوچکی تھی۔سرکاری وکیل نے موقف اختیار کیا کہ درخواست گزار اس معاملے میں فریق نہیں ہیں۔مقدمے کا بنیادی نکتہ زمین کی ملکیت، لیز اور اداروں کے دائرہ اختیار کا تعین ہے،آئینی درخواست کے ذریعے ایسے معاملات کا فیصلہ نہیں کیا جاسکتا۔

رجسٹرڈ لیز کی منسوخی اور ملکیت کے تعین جیسے معاملات سول عدالت ہی طے کرسکتی ہے۔عدالت نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ آئینی عدالت سول عدالت کا متبادل فورم نہیں بن سکتی۔بظاہر سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کا منظور کردہ تعمیراتی پلان قانونی تقاضوں کے مطابق ہے۔درخواست گزار نے کسی غیر قانونی اقدام کا ثبوت پیش نہیں کیا گیا۔اراضی پر تاحال کوئی تعمیر شروع نہیں ہوئی ۔عدالت نے درخواستیں ناقابل سماعت قرار دیتے ہوئے مسترد کردی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں