جوڈیشل الاؤنس 44

سندھ ہائی کورٹ نے مختلف علاقوں سے لاپتا 4 افراد کی گمشدگی کے مقدمات درج کرنے کا حکم دے دیا

کراچی (رپورٹنگ آن لائن) سندھ ہائی کورٹ نے مختلف علاقوں سے لاپتا 4 افراد کی گمشدگی کے مقدمات درج کرنے کا حکم دیتے ہوئے سماعت 19 فروری کے لیے ملتوی کردی۔سندھ ہائیکورٹ میں شہر کے مختلف علاقوں سے لاپتا شہریوں کی بازیابی سے متعلق درخواستوں کی سماعت ہوئی۔ لاپتا شہری کی والدہ نے موقف دیا کہ میرے بیٹے کو سادہ لباس اہلکار لے کر گئے ہمیں دھمکیاں دی جارہی ہیں۔

عدالت نے بغدادی کے علاقے سے لاپتا شہری طارق کی گمشدگی کا مقدمہ درج کرنے کا حکم ددیدیا۔ عدالت نے مدینہ کالونی سے لاپتا شہری نواز کی گمشدگی کا مقدمہ درج کرنے کا حکم دے دیا۔ درخواستگزار کے وکیل نے موقف دیا کہ بن قاسم کے علاقے سے لاپتا شہری سعید اللہ کی گمشدگی کا مقدمہ ہمارے موقف کے مطابق درج نہیں کیا جارہا ہے۔ ہمارے پاس سی سی ٹی فوٹیج موجود ہے اسکے باوجود پولیس اپنی مرضی کا مقدمہ درج کیا ہے۔ عدالت نے ایس ایچ او بن قاسم کو درخواست گزار کا بیان ریکارڈ کرنے کا حکم دے دیا۔

شہری کی والدہ نے کہا کہ میرا بیٹا فراز علی 8 ماہ سے لاپتا ہے تاحال بازیاب نہیں ہوسکا ہے۔ جسٹس محمد سلیم جیسر نے ریمارکس دیئے کہ دعا کریں جلد واپس آجائے گا۔ سرکاری وکیل نے موقف اپنایا کہ فراز علی کی گمشدگی کا مقدمہ گلشن اقبال تھانہ میں درج ہے، بازیابی کی کوشش کی جارہی ہے۔ عدالت نے اتحاد ٹان سے لاپتا شہری شاہ زیب کی گمشدگی کا مقدمہ درج کرنے کا حکم دیدیا۔ عدالت نے دیگر لاپتا افراد کی بازیابی سے متعلق پیش رفت رپورٹس طلب کرلیں۔ عدالت نے مختلف علاقوں سے لاپتا 4 افراد کی گمشدگی کے مقدمات درج کرنے کا حکم دیتے ہوئے سماعت 19 فروری کے لیے ملتوی کردی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں