سندھ ہائیکورٹ 15

سندھ ہائیکورٹ ، آئینی بینچ نے اسحاق ڈار کی بطور ڈپٹی وزیراعظم تقرری کیخلاف درخواستگزار کی جانب سے درخواست واپس لینے پر نمٹادی

کراچی(رپورٹنگ آن لائن)سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ نے اسحاق ڈار کی بطور ڈپٹی وزیراعظم تقرری کیخلاف درخواستگزار کی جانب سے درخواست واپس لینے پر نمٹادی۔

جمعہ کو سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ میںاسحاق ڈار کی بطور ڈپٹی وزیراعظم تقرری کیخلاف درخواست کی سماعت ہوئی۔درخواستگزار ایڈووکیٹ طارق منصور نے درخواست واپس لے لی۔ عدالت نے درخواست واپس لینے پر نمٹا دی۔ طارق منصور ایڈووکیٹ نے موقف دیا تھا کہ فیڈرل سیکرٹری کیبنٹ ڈویژن نے درخواست دائر کرنے کے بعد ایس آر او جاری کیا۔ رول آف بزنس میں ترمیم کرکے ڈپٹی پرائم منسٹر کا عہدہ بنادیا گیا۔آئین میں ایسے عہدے کا کوئی ذکر نہیں ہے۔

آئین کیخلاف ہی ایس آر او جاری کر دیا گیا۔ اس ترمیم کے بعد از سر نو درخواست دائر کی جائے گی۔نئی درخواست میں ڈپٹی وزیر اعظم اسحاق ڈار کو بھی فریق بنایا جائے گا۔اسحاق ڈار کی نائب وزیراعظم تقرری کیخلاف طارق منصور ایڈووکیٹ نے2024 میں درخواست دائر کی تھی۔ 28 اپریل کو وزیرخارجہ اسحاق ڈار کو ڈپٹی پرائم منسٹر بنانے کا نوٹیفکیشن جاری کیا گیا تھا۔ پاکستان کے آئین و حلف میں کہیں ڈپٹی پرائم منسٹر کے عہدے کا ذکر نہیں ہے۔ وفاقی حکومت کی جانب سے 28 اپریل کا جاری نوٹیفکیشن غیر آئینی ہے۔ عدالت سے استدعا ہے کہ ڈپٹی پرائم منسٹر کی تعیناتی کا نوٹیفکیشن غیر آئینی قانونی قرار دیا جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں