کراچی(رپورٹنگ آن لائن)سندھ ہائیکورٹ نے سندھ پبلک سروس کمیشن کی نیب کے کال اپ نوٹس اور انکوائری کیخلاف درخواست پرتفتیشی افسر سے تمام ریکارڈ طلب کرلیا۔
پیرکوسندھ ہائیکورٹ میں سندھ پبلک سروس کمیشن کی نیب کے کال اپ نوٹس اور انکوائری کیخلاف درخواست کی سماعت ہوئی۔ نیب کے تفتیشی افسر عرفان علی عدالت میں پیش ہوئے۔ درخواستگزار کے وکیل راج علی واحد کنور ایڈووکیٹ نے موقف دیا کہ سندھ پبلک سروس کمیشن کے 2018 کے امتحانات کے مختلف متاثرہ امیدوارون نے مختلف عدالتوں سے رجوع کیا تھا۔ سپریم کورٹ نے 2018 کے امتحانات کو درست قرار دیا تھا۔ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد نیب نے ایس پی سی کیخلاف انکوائری بند کردی تھی۔
اچانک 3 سال بعد نیب کی جانب سے 2018 کے امتحانات کی دوبارہ انکوائری شروع کردی گئی ہے۔ نیب نے 24 جون کو کال اپ نوٹس جاری کیا گیا ہے۔ نیب درخواست گزاروں کو حراساں کررہا ہے۔ عدالت نے ریمارکس دیئے کہ سپریم کورٹ اس حوالے سے واضح احکامات دے چکی ہے تو پھر آپ لوگوں کو کیا مسئلہ ہے۔
اگر کسی کے پاس آمدن سے زیادہ اثاثے ہیں تو اسکا ریکارڈ کیوں نہیں پیش کیا جارہا۔ 6 سال سے معاملہ چل رہا ہے کبھی کوئی تفتیشی افسر ہوتا تو کبھی دوسرا۔ آئندہ سماعت پر عدالت نے تفتیشی افسر سے تمام ریکارڈ طلب کرلیا۔ عدالت نے ریمارکس دیئے کہ سماعت 2 دن کے بعد ساڑھے 11 بجے ہوگی۔









