کراچی (رپورٹنگ آن لائن)ترجمان سندھ حکومت سعدیہ جاوید نے کہا ہے کہ حیدرآباد سے واپسی پر سہیل آفریدی کی راہ میں رکاوٹ نہیں ڈالی گئی، سپرہائی وے پر کام ہو رہا تھا، سندھ حکومت سیکیورٹی نہ دیتی تو کیا سہیل آفریدی حیدرآباد جاسکتے تھے؟
نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کو سعید غنی نے خوش آمدید کہا، سندھ حکومت نے سہیل آفریدی کو تمام سہولتیں اور سیکیورٹی فراہم کی۔سعدیہ جاویدنے کہاکہ سیاسی دائرے میں رہتے ہوئے سیاسی سرگرمیوں پر ہمیں اعتراض نہیں تھا، قافلہ شارعِ فیصل پر پہنچا تو ریاست اور ریاستی اداروں کے خلاف نعرے بازی کی گئی۔انہوں نے کہا کہ صدر زرداری کے خلاف نازیبا الفاظ استعمال کیے گئے جبکہ چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری پر تنقید کی گئی۔
انہوںنے کہاکہ تحریک انصاف کو علم تھا کہ وہ جناح باغ میں بڑی تعداد جمع نہیں کرسکیں گے، سہیل آفریدی کو پتہ تھا کہ جناح باغ میں بڑی تعداد میں کارکن جمع نہیں ہوں گے، اس لیے سڑکوں پر خطاب کیا۔ترجمان سندھ حکومت نے کہا کہ نمائش چورنگی میں پی ٹی آئی کے کارکنوں نے پولیس پر پتھراؤ کیا، میڈیا کی گاڑیوں پر حملہ کیا، ظاہری سی بات ہے پتھراؤ پر لاانفورسمنٹ ادارے اور پولیس حرکت میں آئیں گے۔سعدیہ جاوید نے کہا کہ آپ نے ریاست اور ریاستی اداروں کے خلاف تقاریر کیں.
یہ پیپلز پارٹی کو بھی قابل قبول نہیں، پیپلز پارٹی نے بھی جدوجہد کی ہے تاہم ریاست کے خلاف نعرے اور تقریر نہیں کیں۔ میں کے پی کے جاؤں اور بانی پی ٹی آئی کو گالیاں دوں تو کیا پی ٹی آئی ویلکم کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ دونوں وزرائے اعلیٰ نے آج صبح ملاقات کرنا تھی، وزیراعلیٰ مراد علی شاہ کو بلاول بھٹو کے ہمراہ تھرپارکر کا دورہ پر جانا پڑ گیا، انہوں نے سہیل آفریدی کو فون کر کے بتا دیا تھا۔









