لاہور ہائی کورٹ 62

سموگ تدارک کیس، لاہور ہائیکورٹ کا پی ایچ اے کو پارکوں میں کاروباری سرگرمیاں روکنے کا حکم

لاہور (رپورٹنگ آن لائن) لاہور ہائیکورٹ نے سموگ اور ماحولیاتی آلودگی تدارک سے متعلق درخواستوں پر سماعت کے دوران پی ایچ اے کو پارکوں میں کاروباری سرگرمیاں روکنے کا حکم دے دیا اور ہدایت کی کہ شہر کے دو پارکس کو ماڈل پارکس کی طرز پر ان کی اصل حالت میں بحال کیا جائے،عدالت نے واضح کیا کہ پی ایچ اے آئندہ کسی بھی پارک میں کمرشل سرگرمی شروع کرنے سے قبل ماحولیاتی کمیشن سے باقاعدہ اجازت حاصل کرے گی جبکہ عدالت نے داتا دربار کے سامنے سے درختوں کی کٹائی کے معاملے کی انکوائری کا حکم جاری کردیا ۔جسٹس شاہد کریم نے سموگ کے تدارک سے متعلق کیس کی سماعت کی ۔

سماعت کے دوران وفاقی حکومت کی جانب سے ڈپٹی اٹارنی جنرل اسد علی باجوہ عدالت میں پیش ہوئے، جبکہ ڈپٹی ڈائریکٹر ماحولیات علی اعجاز سمیت دیگر متعلقہ افسران بھی عدالت کے روبرو موجود تھے۔ماحولیاتی کمیشن کے ممبر نے عدالتی احکامات پر عملدرآمد سے متعلق رپورٹ پیش کی، جس میں انڈسٹریل یونٹس اور پنجاب یونیورسٹی کی بسوں کے حوالے سے تفصیلات سے آگاہ کیا گیا۔ممبر ماحولیاتی کمیشن نے عدالت کو بتایا کہ پنجاب یونیورسٹی کی 35بسوں میں سے 30بسوں نے ووکس سرٹیفکیٹ حاصل کر لیا ہے جبکہ باقی بسوں کے لیے بھی اقدامات جاری ہیں۔ اس موقع پر جسٹس شاہد کریم نے ریمارکس دیئے کہ آلودگی پھیلانے میں انڈسٹریل یونٹس کا کردار سب سے زیادہ ہے، اس لیے ان کے لیے ایک علیحدہ اور باقاعدہ مانیٹرنگ یونٹ ہونا چاہیے۔ عدالت نے کہا کہ انڈسٹریل آلودگی پر قابو پائے بغیر سموگ کے مسئلے کا حل ممکن نہیں۔

وکیل اظہر صدیق نے نشاندہی کی کہ داتا دربار کے قریب سڑک کی توسیع کے نام پر ایک درخت کاٹا گیا ہے۔ جس پر جسٹس شاہد کریم نے ممبر ماحولیاتی کمیشن کو ہدایت کی کہ وہ اس معاملے کو فوری طور پر دیکھیں اور رپورٹ پیش کریں۔وکیل اظہر صدیق نے عدالت کو آگاہ کیا کہ پی ایچ اے پارکس کو کمرشل مقاصد کے لیے استعمال کر رہا ہے، جبکہ ادارے کا بنیادی کام پارکس کی دیکھ بھال اور تحفظ ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ ایم ڈی پارکس اینڈ ہارٹیکلچر کو ڈی جی بنا دیا گیا ہے اور وہ پی ایچ اے کے پورے ادارے کو چیلنج کرنے کا منصوبہ رکھتے ہیں۔جسٹس شاہد کریم نے وکیل سے استفسار کیا کہ وہ عدالت سے کیا چاہتے ہیں، جس پر وکیل نے اپنے موقف کو دہرایا۔ عدالت نے ریمارکس دیئے کہ پی ایچ اے کو پارکس کی دیکھ بھال کرنی چاہیے، نہ کہ انہیں کمرشل سرگرمیوں کے لیے استعمال کرے۔ عدالت نے کہا کہ اگر اس حوالے سے کوئی عدالتی فیصلے موجود ہیں تو انہیں ریکارڈ پر پیش کیا جائے۔بعد ازاں عدالت نے کیس کی مزید سماعت 23جنوری تک ملتوی کردی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں