ہائیکورٹ 29

سموگ تدارک کیس، شیرانوالہ اور ٹیکسالی گیٹ پراجیکٹ پر حکم امتناعی میں توسیع

لاہور (رپورٹنگ آن لائن) لاہور ہائیکورٹ نے سموگ تدارک سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران شیرانوالہ اور ٹیکسالی گیٹ پراجیکٹ پر جاری حکم امتناعی میں توسیع کر دی جبکہ عدالت نے فاریسٹ ڈیپارٹمنٹ کی کارکردگی پر بھی سخت ناراضگی کا اظہار کیا۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شاہد کریم نے سموگ کے تدارک سے متعلق کیس کی سماعت کی۔

سماعت کے دوران پنجاب حکومت کی جانب سے اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل حسن اعجاز چیمہ پیش ہوئے جبکہ ممبر ماحولیاتی کمیشن، ایل ڈی اے، پی ایچ اے کے وکلا اور ڈپٹی ڈائریکٹر ماحولیات علی اعجاز سمیت دیگر متعلقہ افسران بھی عدالت میں پیش ہوئے۔دوران سماعت وکیل پی ایچ اے بیرسٹر مریم نے عدالت کو بتایا کہ سول سوسائٹی کی جانب سے پیش کردہ تجاویز کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ اس موقع پر جسٹس شاہد کریم نے ریمارکس دیئے کہ ڈبلیو ڈبلیو ایف کی تجاویز پر عمل کرنے کی ضرورت ہے۔سماعت کے دوران نمائندہ ڈبلیو ڈبلیو ایف نے عدالت کو آگاہ کیا کہ پی ایچ اے نے تاحال ٹیکنیکل کمیٹی کا نوٹیفکیشن جاری نہیں کیا۔

جس پر جسٹس شاہد کریم نے ریمارکس دیے کہ پی ایچ اے کے پاس اپنی تکنیکی صلاحیت ہونی چاہیے اور اس حوالے سے ادارے کو مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔عدالت نے پی ایچ اے میں ٹری آفیسر تعینات کرنے کا حکم دیتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ ٹری آفیسر کی تعیناتی نہایت ضروری ہے اور یہ عہدہ لازمی طور پر پی ایچ اے میں ہونا چاہیے۔سماعت کے دوران عدالت نے محکمہ جنگلات کی کارکردگی پر بھی سخت برہمی کا اظہار کیا۔ جسٹس شاہد کریم نے ریمارکس دیئے کہ محکمہ جنگلات سب سے زیادہ کرپٹ محکمہ ہے اور اسے پی ایچ اے میں شامل کر کے کوئی بہتری نہیں لائی جا سکتی۔

عدالت نے مزید ریمارکس دیئے کہ ایک ڈی ایف او یہ موقف اختیار کرتا ہے کہ وہ لاہور سے باہر تعینات ہے اور درختوں کی کٹائی کے حوالے سے اس پر کوئی ذمہ داری عائد نہیں ہوتی۔جسٹس شاہد کریم نے استفسار کیا کہ ایسے افراد کو پی ایچ اے میں شامل کر کے کس طرح بہتری لائی جا سکتی ہے۔عدالت نے ریمارکس دیئے کہ پی ایچ اے کو بااختیار بنانے کی ضرورت ہے تاکہ ماحولیاتی تحفظ اور درختوں کے تحفظ کے اقدامات موثر انداز میں کیے جا سکیں۔

سماعت کے دوران پی ایچ اے گوجرانوالہ کے حوالے سے بھی معاملہ زیر بحث آیا۔ وکیل نے موقف اختیار کیا کہ پی ایچ اے گوجرانوالہ باغات کو کمرشل مقاصد کے لیے تبدیل کر رہی ہے۔ جس پر عدالت نے حکم امتناعی جاری کرتے ہوئے پی ایچ اے گوجرانوالہ کو باغات کو کمرشل سرگرمیوں کے لیے استعمال کرنے سے روک دیا۔ممبر ماحولیاتی کمیشن نے عدالت کو بتایا کہ جوڈیشل کمیشن نے واسا سے زیر زمین پانی کی سطح کے حوالے سے رپورٹ طلب کر رکھی ہے۔ اس موقع پر جسٹس شاہد کریم نے ریمارکس دیئے کہ مارکیٹوں کو جلد بند کرنے کے احکامات کافی عرصے سے دئیے جا رہے ہیں اور اس پر موثر عملدرآمد کی ضرورت ہے۔بعد ازاں عدالت نے کیس کی مزید سماعت 16اپریل تک ملتوی کر دی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں