جنگ عظیم 28

سائبر سپیس میں حکمرانی ملکی ترقی اور سلامتی کے ساتھ جڑی ہوئی ہے ، چینی صدر

بیجنگ (رپورٹنگ آن لائن)چین کے صدر شی جن پھنگ نے سی پی سی سنٹرل کمیٹی کے پولیٹیکل بیورو کے تیئسویں اجتماعی مطالعاتی اجلاس کی صدارت کی،جس میں انہوں نے سائبر سپیس میں حکمرانی کے نظام کو بہتر بنانے اور اس کے طویل مدتی میکنزم کو مضبوط بنانے کی اہمیت پر زور دیا۔

ہفتہ کے روز چینی میڈیا کے مطابق شی جن پھنگ نے کہا کہ سائبر سپیس میں حکمرانی ملکی ترقی اور سلامتی کے ساتھ ساتھ عوام کے بنیادی مفادات سے بھی براہِ راست جڑی ہوئی ہے۔ سائبر سپیس میں حکمرانی کی بہتری کے لیے ایک طویل مدتی طریقہ کار کو مضبوط بنانا ضروری ہے،اور حکومت کو اس میں پیش بینی، درستگی، مربوط حکمت عملی اور باہمی ہم آہنگی کو یقینی بنانا چاہیے، تاکہ ایک صاف اور صحت مند فضاء کو مستقل طور پر پروان چڑھایا جا سکے۔

شی جن پھنگ نے کہا کہ سائبر سپیس میں حکمرانی ایک انتظامی منصوبہ ہے، جس کے لیے تمام فریقوں کی طاقتوں کو متحرک کرنے، اور تعلیم، انتظامیہ، قوانین سمیت مختلف ذرائع کو جامع طور پر استعمال کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ دور میں مصنوعی ذہانت، بگ ڈیٹا اور دیگر نئی ٹیکنالوجیز مسلسل سامنے آ رہی ہیں، جو سائبر سپیس میں حکمرانی کے لیے چیلنجز کا باعث بنتے ہیں، اور ساتھ ہی نئی معاونت کی شرائط بھی فراہم کرتے ہیں۔ انہوں نے نیٹ ورک انفارمیشن کے شعبے میں نئی ٹیکنالوجیز کی ترقی کی حوصلہ افزائی کرنے، تحقیق و ترقی کے نتائج کی تبدیلی اور اطلاق کو فروغ دینے، سیکیورٹی کے نگرانی کے طریقہ کار کو درجہ بندی کے لحاظ سے بہتر بنانے، اور نیٹ ورک سیکیورٹی اور ڈیٹا سیکیورٹی کو مضبوط بنانے پر زور دیا۔

شی جن پھنگ نے نشاندہی کی کہ سائبر سپیس میں حکمرانی دنیا کے تمام ممالک کے سامنے ایک مشترکہ چیلنج ہے۔ ہمیں بین الاقوامی قوانین کی تشکیل میں سرگرم کردار ادا کرنا چاہیے، تمام ممالک کے ساتھ مل کر سائبر جرائم اور قوانین کی خلاف ورزیوں کا مقابلہ کرنا چاہیے، اور سائبر سپیس میں ایک مشترکہ مستقبل کے معاشرے کی تعمیر کو آگے بڑھانا چاہیے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں