لاہور ہائی کورٹ 83

زچگی کیس میں خاتون ،بچے کی ہلاکت ،ملزمہ کی جانب سے درخواست ضمانت واپس لینے کی بنیاد پر خارج

لاہور (رپورٹنگ آن لائن) لاہور ہائیکورٹ نے زچگی کیس میں خاتون اور بچے کی ہلاکت کیس میں ملزمہ کی جانب سے درخواست ضمانت واپس لینے کی بنیاد پر خارج کر دی۔

جسٹس طارق سلیم شیخ نے ملزمہ پروین بی بی کی درخواست ضمانت پر سماعت کی ۔ جس میں موقف اپنایا گیا کہ درخواست گزار خاتون کے خلاف 20نومبر 2025ء کو ماں اور بچے کے قتل کا مقدمہ درج ہوا،درخواست گزار دو ماہ سے جیل میں قید ہے،درخواست گزار نے اپنے کلینک میں زچگی کا آپریشن نہیں کیا،لواحقین مریض کو چند گھنٹوں کے بعد کلینک سے لے گئے تھے،خاتون رخسانہ بی بی اور بچہ علی کلینک میں زچگی کے دوران جاں بحق ہوئے،درخواست گزار کا ماں اور بچے کی ہلاکت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

استدعا ہے کہ عدالت درخواست گزار کی ضمانت منظور کر کے رہا کرنے کا حکم دے۔ عدالت نے ریمارکس دیئے کہ درخواست گزار نے خاتون کو داخل کیا اور کیس خراب ہونے پر وہاں سے بھجوا دیا، بلڈ سیمپل اور الٹراسائونڈ میں پندرہ منٹ لگتے ہیں،آپ نے چار گھنٹے تک خاتون کو اپنے کلینک میں رکھا،اس کیس میں آپ نے ہیلتھ کئیر کمیشن کی رپورٹ کو ساتھ نہیں لگایا،درخواست گزار نے پیسوں کی لالچ میں داخل کیا کہ نارمل ڈیلیوری ہوئی تو پیسے بن جائیں گے ۔

سرکاری وکیل نے کہا کہ ملزمہ پروین بی بی لیڈی ہیلتھ وزیٹر ہے،درخواست گزار کھڈیاں میں رحمت گائنی سنٹر چلاتی ہیں،درخواست گزار کو اس طرح کا کیس کرنے کا اختیار نہیں تھا،عدالت ملزمہ کی درخواست ضمانت خارج کرے۔دوران سماعت عدالت نے ملزمہ کی جانب سے درخواست ضمانت واپس لینے کی بنیاد پر خارج کر دی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں