شہبازشریف 40

زرعی شعبے کی اصلاحات اور کسانوں کو عالمی سطح پر رائج اطوار سے متعارف کروانا حکومت کی اولین ترجیح ہے،وزیر اعظم

اسلام آباد(رپورٹنگ آن لائن)وزیر اعظم شہبازشریف نے ہدایت کی ہے کہ زرعی شعبے کی اصلاحات اور کسانوں کو عالمی سطح پر رائج اطوار سے متعارف کروانا حکومت کی اولین ترجیح ہے،آئندہ پانچ برس میں زرعی برآمدات بڑھانے کے حوالے سے لائحہ عمل تشکیل دیا جائے،ساحلی پٹی پر پام آئل کی پیداوار کیلئے پالیسی اقدامات تشکیل دے کر پیش کئے جائیں۔

منگل کو وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کی زیرِ صدارت زرعی شعبے کی اصلاحات پر تجاویز کے حوالے سے ورکنگ گروپ کا جائزہ اجلاس آج اسلام آباد میں منعقد ہوا۔ وزیر اعظم شہبازشریف نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہاکہ زرعی شعبے کی اصلاحات اور کسانوں کو عالمی سطح پر رائج اطوار سے متعارف کروانا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ انہوںنے کہاکہ وفاقی حکومت زرعی شعبے میں اپنے دائرہ کار میں اصلاحات کے ساتھ ساتھ صوبائی حکومتوں کے ساتھ مل کر زراعت کی ترقی کیلئے اقدامات کر رہی ہے۔

شہبازشریف نے کہاکہ فی ایکڑ پیداوار میں اضافے کیلئے کسانوں کو معیاری بیج، مناسب قیمت پر بروقت کھاد اور بیماری کی روک تھام کیلئے ادویات کی فراہمی کیلئے اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ وزیر اعظم نے کہاکہ زرعی اجناس کی پراسیسنگ سے برآمدات کے قابل اشیاء کی تیاری کیلئے پالیسی سطح پر اقدامات اٹھائے جارہے ہیں۔ شہبازشریف نے کہاکہ حال ہی میں چین میں سرکاری خرچ پر ایک ہزار پاکستانی طلباء و طالبات کو زراعت کی جدید ٹیکنالوجی کی تربیت کیلئے بھیجا گیاوزیر اعظم نے کہاکہ پاکستان کی زرعی شعبے میں ترقی کی بھرپور استعداد موجود ہے۔

شہبازشریف نے کہاکہ موجودہ وسائل میں رہتے ہوئے زراعت کی ترقی کیلئے تحقیق پر سرمایہ کاری کررہے ہیں تاکہ فی ایکڑ پیداوار میں اضافہ ہو۔ انہوںنے کہاکہ ماہی گیری اور پھلوں و ان سے تیار کردہ مصنوعات کی برآمدات میں اضافے کیلئے اقدامات اٹھائے جارہے ہیں۔ شہبازشریف نے کہاکہ آئندہ پانچ برس میں زرعی برآمدات بڑھانے کے حوالے سے لائحہ عمل تشکیل دیا جائے۔اجلاس میں چیئرمین ورکنگ گروپ رانا نسیم اور انکی ٹیم نے ملکی زرعی شعبے پر جامع رپورٹ، شعبے کو درپیش مسائل اور آئندہ کے لائحہ عمل پر تفصیلی بریفنگ دی۔

اجلاس کو تفصیلی طور پر ملک میں ربیع و خریف کی بڑی فصلوں، انکی فی ایکڑ اوسط پیداوار، ہارٹی کلچر و پھلوں کی پیداوار و انکی برآمدات، گلہ بانی، ڈیری شعبے اور زراعت سے متعلقہ تمام شعبوں کا خطے و عالمی سطح پر تقابلی جائزہ پیش کیا گیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ قلیل مدتی اصلاحاتی فریم ورک کے تحت پاکستان کی موجودہ فی ایکڑ اوسط پیداوار کو موجودہ وسائل میں رہتے ہوئے بڑھایا جائیگا اس کے لئے وفاقی حکومت معیاری بیج کی فراہمی اور پالیسی اقدامات کے ساتھ صوبائی حکومتوں کے ساتھ تعاون سے مؤثر ایکسٹینش سروسز اور کسانوں کو جدید خطوط پر زرعی طریقہ کار سے روشناس کرائے گی۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ زرعی اجناس کی پراسیسنگ کیلئے وفاقی حکومت سرٹیفیکشن رجیم پر کام کرے گی جو زرعی اجناس اور انسے تیار کردہ مصنوعات کی عالمی منڈیوں میں قدر میں اضافے کو یقینی بنا کر کسانوں کیلئے منافع میں اضافہ کرے گی. اجلاس کو تحقیق کے اداروں کی اصلاحات پر بھی جامع لائحہ عمل پیش کیا گیا جو نہ صرف موجود فصلوں کی پیداوار میں اضافے بلکہ پاکستان کی آب و ہوا اور زمین کے مطابق نئی و منافع بخش فصلوں کی کاشت کی حوصلہ افزائی کو یقینی بنائیں گی۔

وزیرِ اعظم نے ورکنگ گروپ کی جانب سے مفصل بریفنگ کی پزیرائی، قابل عمل، مؤثر و جامع روڈ میپ تیار کرکے حکومتی اصلاحات کی شفارشات میں شامل کرنے کی ہدایت کی ۔اجلاس میں وفاقی وزراء احسن اقبال، رانا تنویر حسین، ڈاکٹر مصدق ملک، محمد اورنگزیب، عطاء اللہ تارڑ، وزیرِ مملکت بلال اظہر کیانی، معاونِ خصوصی ہارون اختر اور متعلقہ اعلی حکام نے شرکت کی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں