کراچی (رپورٹنگ آن لائن) متحدہ قومی موومنٹ کے سینئر رہنما فاروق ستارکو شکوہ ہے کہ صدر مملکت آصف علی زرداری اور پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری ایم کیو ایم کو کسی بھی معاملے میں اہمیت دینے کو تیار نہیں ہیں۔سرہنما ایم کیو ایم ڈاکٹر فاروق ستار نے ایک انٹرویو میںکہاکہ ”صدر زرداری اور بلاول بھٹو کسی معاملے پر بات ہی نہیں کرنا چاہتے، انھیں گھمنڈ ہے کہ ساتویں قومی مالیاتی کمیشن میں انھیں بے پناہ وسائل اور طاقت مل گئی ہے، لیکن انھیں یاد رکھنا چاہیے کہ یہ وسائل اور طاقت ہم نے دلوائی۔
”فاروق ستار نے کہاکہ یہ اس وقت ممکن ہو سکا تھا جب اُن کے اور سردار احمد کے پیپر پر شوکت ترین نے ساتویں قومی مالیاتی کمیشن پر فیصلہ کیا، انھوں نے دعویٰ کیا کہ صوبائی خودمختاری کا سارا مقدمہ ہی ایم کیو ایم نے لڑا، اور کہاکہ ”اٹھارویں ترمیم میں بھی ہمارا سب سے بڑا کردار تھا۔”رہنما ایم کیو ایم نے کہاکہ ”لیکن یہ اس شرط پر تھا کہ 140 اے کی صیح تشریح ہو، اور اختیارات صوبے سے شہروں، ضلعوں اور بلدیات کو ملیں، لیکن پیپلز پارٹی نے ایسا نہیں کیا، اور 17 برسوں سے بلا شرکت غیرے تمام وسائل، فیصلوں اور اختیارات پر یہ قابض ہیں۔
”فاروق ستار نے شہر قائد کی بربادی کے حوالے سے کہاکہ ”یہ حلقہ بندیوں میں دھاندلی کر کے اپنا میئر لائے، کراچی کی تباہی و بربادی کی ذمے دار پیپلز پارٹی، اس کی صوبائی حکومت اور میئر ہیں، کراچی کی تعمیر و ترقی کے عمل کو صوبائی حکومت کے وڈیروں، جاگیر داروں اور وزیر اعلیٰ نے منجمد کر کے رکھ دیا ہے۔”انہوںنے کہاکہ اس شہر کی صرف سڑکیں ہی نہیں لوگوں کے دل اور نوجوانوں کے مستقبل بھی ٹوٹ چکے ہیں۔فاروق ستار نے علامتی انداز میں کہا کہ”کراچی پہلا شہر ہے جب اس کو کھودا گیا تو اس میں4 کروڑ زندہ انسان بھی نکلے، اس سے قبل جب موہن جو دڑو یا ہڑپہ دریافت ہوا تھا تو ان میں سے کوئی انسان نہیں نکلا تھا۔
”انھوں نے سوال اٹھایا کہ پیپلز پارٹی کے دو وزرائے اعلیٰ قائم علی شاہ اور مراد علی شاہ نے 17 سالوں میں ماس ٹرانزٹ یا سرکلر ریلوے کے لیے کیا کیا؟ ان سے نہ تو کوئی منصوبہ مکمل ہوا نہ ہوگا، اس لیے وفاق کو ہر صورت مداخلت کرنا ہوگی، وزیر اعظم سے ہماری ملاقاتوں میں احسن اقبال نے شہباز شریف کو بتایا کہ کراچی میں لاوا پک رہا ہے، اگر یہ پھٹا تو پھر کراچی کسی کے بس میں نہیں رہے گا۔
ایم کیو ایم کے رہنما ای چالان کو صوبائی حکومت کا غنڈہ ٹیکس اور بھتہ قرار دیا، اور کہا کہ جب اس کے خلاف شاہراہ فیصل پر 10,000 موٹر سائیکل سوار جمع ہوں گے، تب پھر اسلام آباد سے وزرا بھی آ جائیں گے اور صوبائی حکومت بھی وہاں ہوگی، انھوں نے کہا میں وڈیروں اور جاگیر داروں کو وارننگ دیتا ہوں کہ ایسی غلطیاں نہ کریں۔








