شہبازاکمل جندران۔
ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن ڈیپارٹمنٹ ریجن سی لاہور کی ڈیجیٹل ہیرا پھیری کا انکشاف ہوا یے۔
ذرائع کے مطابق ری ویپمنگ سسٹم میں پائے جانے والے بعض نقائص کی وجہ سے پنجاب بھر میں گاڑیوں کی ٹرانسفر اور ٹوکن ٹیکس کی ادائیگی کے لئے PSID جنریٹ ہونے میں دقت آرہی ہے جس پر روڈ چیکنگ پر مامور یا دفاتر کے اندر ایکسائز اہلکار شہریوں سے ریونیو وصولی کے لئے انہیں E-PAY کے استعمال کا مشورہ دیتے ہیں اور جیسے ہی پنجاب کے کسی بھی شہر سے کوئی شہری ای پے کےبذریعے ٹیکس یا فیس کی ادائیگی کرتا ہے تو ایسی رقم بائی ڈیالفالٹ ریجن سی لاہور کے کریڈٹ پر چلی جاتی یے اور ریکوری کرنے والا ڈائریکٹوریٹ دیکھتا رہ جاتا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ مختلف ڈائیریکٹوریٹ کی لگ بھگ 98 کروڑ روپے کی ریکوری ریجن سی کے کریڈٹ پر شو ہو رہی ہے۔
ذرائع کے مطابق ڈیجیٹل ہیرا پھیری کے باوجود پنجاب میں ریونیو ریکوری میں سب سے ناقص کارکردگی ریجن سی لاہور کی ہے۔جو کہ 31 جنوری تک ٹارگٹ سے 97 کروڑ روپے پیچھا تھا۔
ریجن سی کو رواں مالی سال کے لئے 12 ارب 25 کروڑ 56 لاکھ روپے کا حدف دیا گیا جس میں سے 31 جنوری تک 6 ارب 55 کروڑ روپے کی وصولی کی جاسکی ہے۔جو حدف کا 58فیصد بنتا ہے۔
اس سلسلے میں گفتگو کرتے ہوئے ڈائیریکٹر ریجن سی لاہور محمد آصف کا کہنا ہے کہ ری ویپمنگ کی وجہ سے نیو رجسٹریشن کا بڑا حصہ اسلام آباد میں چلا گیا۔جبکہ نئے نظام میں جابجا نقائص اور شکایات کی وجہ سے عوام کا اعتماد اٹھنے لگا ہے۔جس کی وجہ سے ریجن سی اب تک کے ٹارگٹ سے 97 کروڑ روپے پیچھے ہے۔









