اسلام آباد (رپورٹنگ آن لائن)چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے بلوچستان کے عوام کیلئے امن، ترقی، شمولیت اور آئینی حقوق کے حوالے سے ریاست کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ صوبے کی اہمیت محض جغرافیے تک محدود نہیں، رقبے کے لحاظ سے پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہونے کے ناطے بلوچستان علاقائی روابط میں کلیدی حیثیت رکھتا ہے اور یہ جنوبی ایشیا کو وسطی ایشیا اور مشرق وسطیٰ سے جوڑتا ہے۔وہ جمعہ کو یہاں ایوان صدر میں نیشنل ورکشاپ بلوچستان کے شرکا سے خطاب کررہے تھے ۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان پاکستان کے روشن مستقبل، علاقائی رابطہ کاری اور قومی سلامتی میں کلیدی کردار رکھتا ہے، بلوچستان کے نوجوانوں کو تعلیم، ہنر اور مواقع دینا پائیدار امن کی ضمانت ہے، وفاقی اداروں میں بلوچستان کے نوجوانوں کی نمائندگی بڑھانا قومی ترجیح رہی ہے، ریکوڈک، سی پیک اور ایس آئی ایف سی بلوچستان کی معاشی ترقی کیلئے امید افزا منصوبے ہیں۔ چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ بلوچستان کی اہمیت محض جغرافیہ تک محدود نہیں، اس کے وسائل اور ساحلی پٹی قومی معیشت کی بنیاد ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آغاز حقوق بلوچستان پیکج وفاق اور صوبے کے درمیان اعتماد کی بحالی کا تاریخی اقدام تھا، آغاز حقوق بلوچستان پیکج کے ذریعے مالی خودمختاری، روزگار اور وسائل کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بنایا گیا۔
سید یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ بلوچستان کے عوام کی ثابت قدمی اور حوصلہ قوم کیلئے باعث فخر ہے، سینیٹ بطور ایوان وفاق، صوبائی حقوق کے تحفظ اور متوازن ترقی کیلئے پرعزم ہے، پارلیمان جمہوری اقدار، شفافیت اور بین الصوبائی ہم آہنگی کے فروغ میں مرکزی کردار ادا کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریاست بلوچستان کے عوام کے امن، ترقی، شمولیت اور آئینی حقوق کی مکمل پابند ہے، نیشنل ورکشاپ بلوچستان قومی یکجہتی اور باخبر قیادت کے فروغ کی قابل تحسین کاوش ہے، بلوچستان کے عوام کی ثقافت اور روایات قومی شناخت کا لازمی جزو ہیں۔ چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ معدنی وسائل سے متاثرہ علاقوں کی مقامی آبادی کو ترقی کے ثمرات دینا ناگزیر ہے، بلوچستان کو موسمیاتی تبدیلیوں اور قدرتی آفات کے سنگین چیلنجز درپیش ہیں، سیلاب اور شدید بارشوں سے متاثرہ علاقوں کی بحالی کیلئے طویل مدتی منصوبہ بندی ضروری ہے۔
سید یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ شرکا کو آئینی اقدار کے احترام اور جمہوری دائرے میں رہ کر کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کا ساحل، قدرتی وسائل اور تزویراتی محل وقوع اسے پاکستان کے معاشی مستقبل اور قومی سلامتی کا مرکزی ستون بناتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے عوام اپنی بھرپور ثقافت، تاریخ اور روایات کے ساتھ قومی شناخت کا لازمی حصہ ہیں اور اس امر کی ضرورت ہے کہ ترقی، مواقع اور شمولیت صوبے کے ہر گوشے تک پہنچے۔وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں شرکا کو خوش آمدید کہتے ہوئے چیئرمین سینیٹ نے بلوچستان سے تعلق رکھنے والے مختلف تعلیمی اداروں کے اساتذہ اور طلبا کے گروپ سے ملاقات پر مسرت کا اظہار کیا۔
انہوں نے نیشنل ورکشاپ بلوچستان کو حکومت بلوچستان کا ایک قابل تحسین اور مسلسل جاری رہنے والا اقدام قرار دیا جو 12 کور ہیڈکوارٹرز کوئٹہ کے اشتراک سے منعقد کیا گیا جس کا مقصد قومی ہم آہنگی، باخبر قیادت اور صوبے اور اس کے عوام سے براہ راست متعلقہ امور پر تعمیری مکالمے کو فروغ دینا ہے۔انہوں نے منتظمین کو سراہتے ہوئے کہا کہ پالیسی سازوں، ماہرین تعلیم، پیشہ ور افراد اور نوجوان قیادت کو ایک پلیٹ فارم پر لانے سے باہمی فہم، قومی یکجہتی اور استعداد سازی کو نمایاں فروغ ملتا ہے۔ چیئرمین سینیٹ نے پاکستان نیول وار کالج کے اپنے حالیہ دورے کا حوالہ دیتے ہوئے بحری سلامتی اور بلیو اکانومی کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس نوعیت کی مصروفیات قومی دفاع اور ترقیاتی ترجیحات کی جامع تفہیم خصوصاً بلوچستان جیسے صوبوں کیلئے جو غیر معمولی تزویراتی اور ساحلی اہمیت کے حامل ہیں، کیلئے نہایت اہم ہیں۔
بلوچستان کے پاکستان میں کردار پر بات کرتے ہوئے سید یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ اس کا ساحل، قدرتی وسائل اور تزویراتی محل وقوع اسے پاکستان کے معاشی مستقبل اور قومی سلامتی کا مرکزی ستون بناتے ہیں۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ بلوچستان کے عوام اپنی بھرپور ثقافت، تاریخ اور روایات کے ساتھ قومی شناخت کا لازمی حصہ ہیں اور اس امر کی ضرورت ہے کہ ترقی، مواقع اور شمولیت صوبے کے ہر گوشے تک پہنچے۔چیئرمین سینیٹ نے اپنی وزارت عظمیٰ کی مدت کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ ان کی حکومت نے بلوچستان کو قومی ترجیحات کے مرکز میں رکھا، 2009ء میں پارلیمان سے متفقہ طور پر منظور ہونے والے آغاز حقوق بلوچستان پیکج کو ایک تاریخی اقدام قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس کا مقصد دیرینہ سیاسی، معاشی اور انتظامی مسائل کو جمہوری اور آئینی ذرائع سے حل کرنا تھا۔
انہوں نے کہا کہ یہ پیکج وفاق اور صوبے کے درمیان اعتماد کی بحالی، صوبائی مالی خودمختاری کے فروغ، قدرتی وسائل سے منصفانہ فائدہ اٹھانے، وفاقی اداروں میں بلوچ نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع بڑھانے اور سول سروسز میں بہتر نمائندگی کو یقینی بنانے کیلئے ایک جامع فریم ورک کے طور پر وضع کیا گیا تھا، تعلیم کو خصوصی اہمیت دی گئی جس کے تحت وظائف اور تعلیمی اداروں کے قیام کے ذریعے مقامی صلاحیتوں کی آبیاری کی گئی۔ چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ وسائل کے حصول سے متاثرہ علاقوں کیلئے خصوصی ترقیاتی اقدامات متعارف کرائے گئے تاکہ مقامی آبادی اپنی قدرتی دولت سے مستفید ہوسکے۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی مفاہمت اور تمام متعلقہ فریقوں کے ساتھ مکالمہ پالیسی کا مرکزی جزو رہا، اس یقین کے ساتھ کہ پائیدار امن صرف شمولیت اور رابطے سے ہی ممکن ہے۔
سید یوسف رضا گیلانی نے بلوچستان کے ساتھ اپنے ذاتی اور مسلسل رابطے کا بھی ذکر کیا جن میں کوئٹہ کے دورے اور صوبائی قیادت سے مشاورت شامل تھی تاکہ سکیورٹی اور ترقیاتی ترجیحات کا جائزہ لیا جاسکے جبکہ وفاقی وزرا کو بھی صوبے کے ساتھ باقاعدہ روابط کی ترغیب دی گئی۔ مستقبل کے امکانات پر روشنی ڈالتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بلوچستان قدرتی وسائل سے مالا مال اور بے پناہ صلاحیتوں کا حامل صوبہ ہے، انفراسٹرکچر، تجارت، معدنیات اور رابطہ کاری میں سرمایہ کاری سے مقامی آبادی کی حالت بہتر بنائی جا سکتی ہے، روزگار کے مواقع پیدا کئے جاسکتے ہیں اور قومی ترقی میں شراکت داری کا احساس اجاگر کیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سپیشل انویسٹمنٹ فیسیلی ٹیشن کونسل (ایس آئی ایف سی) مربوط سرمایہ کاری کیلئے ایک اہم پلیٹ فارم فراہم کرتی ہے جبکہ ریکوڈک اور سی پیک سے متعلق منصوبے صوبائی مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے معاشی ترقی، استعداد اور سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
چیئرمین سینیٹ نے موسمیاتی تبدیلی اور قدرتی آفات کے باعث بلوچستان کو درپیش چیلنجز کی جانب بھی توجہ دلائی جن میں سیلاب اور شدید بارشیں شامل ہیں جن سے قیمتی جانوں اور روزگار کا نقصان ہوا۔ انہوں نے ان مسائل سے نمٹنے کیلئے مسلسل انسانی امداد، بحالی اور طویل المدتی منصوبہ بندی کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ ان چیلنجز کے باوجود بلوچستان کے عوام کی استقامت طاقت اور امید کا سرچشمہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے نوجوان صوبے کا سب سے قیمتی اثاثہ ہیں اور انہیں تعلیم، مہارتوں اور ریاستی اداروں میں مواقع فراہم کرنے کی ضرورت ہے تاکہ وہ امن، ترقی اور قومی یکجہتی کے علمبردار بن سکیں۔ سید یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ سینیٹ آف پاکستان بحیثیت ایوان وفاق، صوبائی حقوق کے تحفظ، وفاق کو مضبوط بنانے اور تمام خطوں میں متوازن ترقی کے فروغ کیلئے نگرانی، شفافیت اور مکالمے کے ذریعے پرعزم ہے۔
چیئرمین سینیٹ نے شرکا پر زور دیا کہ وہ تنوع کا احترام کریں، آئینی اقدار کو برقرار رکھیں اور جمہوری دائرہ کار کے اندر رہتے ہوئے کردار ادا کریں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ ورکشاپ انہیں پارلیمانی جمہوریت کی بہتر تفہیم دے گی اور قومی ترقی میں تعمیری کردار ادا کرنے کی ترغیب فراہم کرے گی۔ انہوں نے نیشنل ورکشاپ بلوچستان کے منتظمین اور شرکا کو ورکشاپ کے کامیاب انعقاد پر مبارکباد دی اور ان کے مستقبل کے لئے نیک تمنائوں کا اظہار کیا۔ چیئرمین سینیٹ نے اس موقع پر نیشنل ورکشاپ بلوچستان کے شرکا کے پارلیمان کے کام، قانون سازی، بلوچستان سمیت قومی سطح کے مختلف قومی امور کے متعلق مختلف سوالات کے تفصیلی جوابات بھی دیئے۔









