لاہور( ر پورٹنگ آن لائن )پاکستان کارپٹ مینو فیکچررز اینڈ ایکسپورٹر ز ایسوسی ایشن نے کہا ہے کہ حکومت برآمدات میں اضافے کیلئے بنیادی رکاوٹیں دور کرے اورخاص طور پر فریٹ چارجز پر خصوصی سبسڈی دی جائے تاکہ ہماری مصنوعات عالمی مارکیٹوں میں مقابلہ کرنے کے قابل ہو سکیں ،روایتی حریف ملک کے مقابلے میں کارپٹ ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ نے بھی جدید لوم تیار کر لی ہے جس پر قالینوں کے علاوہ دیگر مصنوعات تیار کر کے برآمدات کو بڑے پیمانے پر فروغ دیا جا سکتاہے ،حکومت برآمدات کے فروغ کیلئے سنگل کنٹری کا انعقاد اور عالمی سطح پر نمائشوںمیں سو فیصد شرکت یقینی بنانے کے مطالبے پر عملدرآمد کرے۔ ان خیالات کا اظہارایسوسی ایشن کے گروپ لیڈر عبد اللطیف ملک، کارپٹ ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ کے چیئر پرسن پرویز حنیف، وائس چیئرمین اعجاز الرحمان، سینئر ایگزیکٹو ممبر ریاض احمد اورسعید خان نے اپنے مشترکہ بیان میں کیا ۔
انہوںنے کہا کہ پاکستان کے ہاتھ سے بنے قالینوں کی صنعت کی برآمدات دن بدن کم ہوتی جارہی ہیں جس کی بہت سی وجوہات ہیں ۔حکومت سے مطالبہ ہے کہ طورخم بارڈر سے منگوائے جانے والے جزوی تیار خام مال پر کمرشل امپورٹرز کو ٹیکس میں ریلیف دیا جائے ،برآمدات میں فریٹ چارجز میں سبسڈی اورمصنوعات کی موثرمارکیٹنگ کیلئے بیرون ملک سفارتخانے کے ذریعے معاونت فراہم کی جائے ۔
انہوںنے کہا کہ ہمارا روایتی حریف ملک ایک لوم تیار کر کے اس پر کم و بیش36آئٹمزتیار کر رہا ہے جبکہ کارپٹ ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ نے بھی اپنے وسائل سے اس لوم کی تیاری میںکامیابی حاصل کر لی ہے ، حکومت کو چاہیے کہ دیہاتوںمیں لوگوںکو اس نئی دریافت سے آگاہ کر ے اور انہیں روایتی لوم سے اس پر منتقل کرے جس کیلئے بلا سودآسان قرض کی سہولت فراہم کی جائے ۔ یہ ایسی لوم ہے جس سے بہت سے برانڈزچین کو مصنوعات تیار کر کے دی جا سکتی ہیں اور کارپٹ ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ ڈیمو دینے کے لئے اپنی خدمات فراہم کرنے کیلئے بھی تیار ہے ۔اگر حکومت تھوڑی سی توجہ دے تو اس لوم کے ذریعے دیہی علاقوں میں روزگار کا انقلاب آ سکتاہے ۔









