روئی کا بھاؤ 138

روئی کا بھاؤ مستحکم، اسپاٹ ریٹ میں فی من 400 روپے کا اضافہ

کراچی (ر پورٹنگ آن لائن)مقامی کاٹن مارکیٹ میں گزشتہ ہفتے کے دوران روئی کے بھاؤ میں مجموعی طور پر استحکام رہا۔ ٹیکسٹائل و اسپننگ ملز کوالٹی کاٹن کی خریداری کرتے رہے جبکہ پھٹی کی قیمت زیادہ ہونے کی وجہ سے جنرز نے بھی پھٹی کی خریداری جاری رکھی کاروباری حجم نسبتا کم رہا۔ بیرون ممالک سے روئی درآمد ہونے دام بھی زیادہ ہونے اور ڈالر کی قیمت میں بھی دوبارہ اضافہ ہونے کی وجہ سے ملز مجبورا مقامی کاٹن کے اونچے بھاؤ ہونے کے باوجود خریداری کررہی ہے دوسری جانب دن بدن روئی کی کوالٹی بھی خراب ہوتی جارہی ہے اچھی کوالٹی کا فقدان ہے جس وجہ سے ملز ہاتھ آنے والی ہر کوالٹی کی روئی خریدتے جارہے ہیں ملوں کے بڑے گروپوں کی درآمد کی ہوئی روئی کی ڈلیوری بھی آنا شروع ہوگئی ہے تاہم اس کے باوجود کنٹینرز اور شپمینٹ کا مثلا ہنوز برقرار ہے کئی ویلیو ایڈڈ ٹیکسٹائل ملز کی تیار مصنوعات کا اسٹاک ملوں میں پڑا ہوا ہے کنٹینرز اور شپمینٹ کی تاخیر کے سبب برآمد میں مشکلات ہے جس کے باعث زبردست مالی بحران کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے کئی ملز زیادہ قیمت ادا کرکے ادھار روئی خریدنے کیلئے مجبور ہوگئی ہے۔

ویلیو ایڈڈ سیکٹر کے کہنے کے مطابق ان کو یارن مناسب دام پر دستیاب نہیں ہیں اس کے لئے وہ حکومت سے درآمدی ڈیوٹی ختم کرنے کی استدعا کر رہی ہے دوسری جانب اسپننگ ملز کا کہنا ہے کہ روئی کے بھا میں بہت اضافہ ہونے کی وجہ سے کاٹن یارن کم داموں فروخت نہیں کر سکتے بہر حال جن ملز نے پہلے کم داموں پر روئی خریدی ہے یا درآمد کی ہوئی ہے وہ اسپنرز محتاط ہوکر کاٹن یارن کی فروخت کر رہے ہیں اس طرح ویلیو ایڈڈ سیکٹر اور اسپننگ ملز کے مابین کشمکش جاری ہے ویلیو ایڈڈ سیکٹر مصنوعات برآمد کرنے کیلئے معاہدے کرنے سے بھی خوف محسوس کررہے ہیں کیوں کہ روئی اور ڈالر کے بھاؤ کا اندازہ لگانا مشکل ہے۔

دوسری جانب حکومت کی جانب سے برآمدی صنعتوں کے لیے گیس کی قیمت میں اضافہ کرنے اور Captive گیس کی قیمت میں اضافہ ہونے کی خبریں گردش کر رہی ہے ٹیکسٹائل اور دیگر صنعتکار حکومت کے اس اقدام سے اضطراب میں مبتلا نظر آرہے ہیں ایک جانب حکومت برآمدات میں اضافہ کرنے کی کوشش کو کہہ رہی ہیں دوسری جانب Cost of Business میں اضافہ کرکے برآمدات میں مشکلات پیدا کر رہی ہے توانائی کی قیمتوں میں اضافہ کے خلاف پوری صنعتی برادری سراپا احتجاج ہے۔دریں اثنا ملک میں پاس کی پیداوار تقریبا 85 لاکھ گانٹھیں ہونے کی توقع ہے ملز کی کھپت ایک کروڑ 60 لاکھ گانٹھوں کی ہے۔ 70 لاکھ گانٹھیں درآمد کرنی پڑیں گی فی الحال تقریبا 45 لاکھ گانٹھوں کے درآمدی معاہدے ہوچکے ہیں۔

صوبہ سندھ میں روئی کا بھا ؤکوالٹی کے حساب سے فی من 13000 تا 16500 روپے جبکہ Rime Mark کوالٹی 17000 تا 17200 روپے چل رہا ہے جبکہ پھٹی کا بھاؤ فی 40 کلو 4800 تا 7200 روپے بنولہ کا بھاؤ فی من 1350 تا 2200 روپے صوبہ پنجاب میں روئی کا بھا ؤکوالٹی کے حساب سے فی من 14400 تا 17000 روپے رہا پھٹی کا بھاؤ فی 40 کلو 5800 تا 8200 روپے بنولہ کا بھاؤ فی من 1600 تا 2200 روپے صوبہ بلوچستان میں روئی کا بھاؤ فی من 13800 تا 16500 روپے پھٹی کا بھا ؤفی 40 کلو 6200 تا 8500 روپے بنولہ کا بھاؤ فی من 1700 تا 2200 روپے رہا۔کراچی کاٹن ایسوسی ایشن کی اسپاٹ ریٹ کمیٹی نے اسپاٹ ریٹ میں فی من 400 روپے کا اضافہ کرکے اسپاٹ ریٹ فی من 16300 روپے کے بھاؤ پر بند کیا۔

کراچی کاٹن بروکرز فورم کے چیئرمین نسیم عثمان نے بتایا کہ بین الاقوامی کاٹن مارکیٹوں میں بھی روئی کے بھا ؤمیں تیزی کا تسلسل جاری رہا نیویارک کاٹن کے وعدے کا بھاؤ فی پانڈ 116 امریکن سینٹ تا 118 سینٹ کے درمیان رہا۔ USDA کی ہفتہ وار برآمدی اور سیلز رپورٹ میں برآمداد 87 ہزار 900 گانٹھوں کی بتائی گئی ہے جو گزشتہ ہفتے کی رپورٹ کے نسبت 38 فیصد کم ہے اس مرتبہ بھی چین 36 ہزار 700 گانٹھیں خرید کر پہلے نمبر پر رہا جبکہ سیلز ایک لاکھ 28 ہزار گانٹھوں کی ہوئی جو گزشتہ ہفتے کی سیلز کے نسبت صرف 8 فیصد کم ہے اس میں بھی چین 78 ہزار 800 گانٹھیں خرید کر سر فہرست رہا جبکہ بنگلہ دیش 16 ہزار 800 گانٹھیں خرید کر دوسرے پوزیشن پر رہا برازیل، وسطی ایشیا کے ممالک، افریقہ، سوڈان وغیرہ میں بھی روئی کے بھاؤ میں اضافہ کا رجحان رہا جبکہ بھارت میں روئی کے بھا ؤمیں اتار چڑھا دیکھا گیا۔ بھارت کی کاٹن کارپوریشن آف انڈیا CCI نے گزشتہ 30 دنوں میں روئی کے بھاؤ میں فی کینڈی 356 کلوکے بھاؤ میں 5400 روپے کا نمایاں اضافہ کردیا ہے جو 62050 سے بڑھ کر 67450 فی کینڈی ہوگیا۔

اس ماہ کے 2021/22 امریکی کپاس کے تخمینے اکتوبر سے بڑی حد تک تبدیل نہیں ہوئے ہیں۔ امریکی پیداوار کی پیشن گوئی قدرے زیادہ ہے، 18.2 ملین گانٹھوں پر، جبکہ گھریلو ملز کے استعمال اور برآمدات میں کوئی تبدیلی نہیں ہے۔ امریکی ختم ہونے والے اسٹاک 200,000 گانٹھیں زیادہ ہیں 3.4 ملین19 فیصد استعمال اور پچھلے سال سے 250,000 زیادہ ہیں۔ اپر لینڈ پروڈیوسرز کی جانب سے موصول ہونے والی متوقع مارکیٹنگ سال کی اوسط قیمت اس ماہ 90 سینٹ فی پانڈ میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی، جو کہ سال بہ سال 36 فیصد اضافہ ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں